Granada, paradise regained
الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۱۵
کی بنیاد شوریٰ پر ہے۔ اس طرح کے نازک معاملات میں اہلِ علم کے مشورے سے جو بات طے ہوگی وہ قابل عمل ہوگی نہ کسی کا یہ کہنا کہ میں نے رسول اللہ کو خواب میں دیکھا ہے۔ یہ بھی کس قدر عجیب بات ہے کہ مہدی سوڈانی پر انسائیکلو پیڈیا برطانیہ میں تقریباً ۲۲۰ سطر کا مضمون ہے اور خلیفہ دوم عمر بن خطاب پر صرف ۹ سطر کا مضمون۔
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے لکھا ہے کہ مہدویت دعویٰ کرنے کی چیز نہیں، وہ کرنے کے دکھا جانے کی چیز ہے۔ مگر یہ بات بھی صحیح نہیں۔ مہدی کے معنی ہیں ہدایت یاب۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مہدی کے لیے ضروری نہیں ہے کہ وہ کوئی بڑا سیاسی یا قومی کارنامہ کرے جس کو لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ مہدی کی اصل صرف یہ ہے کہ ایک ایسے زمانے میں جب کہ اسلام کی حقیقت گم ہو چکی ہوگی، وہ اسلام کی معرفت حاصل کرے گا۔ گویا مہدی اصلا ہدایت کو پانے والا ہوگا نہ کہ ہدایت کا خارجی نظام قائم کرنے والا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کسی شخص کا مہدی ہونا یہ اللہ کے علم کی بات ہے، اس کا یقینی علم نہ خود مہدی کو ہوگا اور نہ اس کے معاصر لوگوں کو۔ کیوں کہ ہدایت یاب کون ہے، اس کا تعلق تمام تر علم الٰہی سے ہے۔
۲۹ نومبر کو دوپہر کے کھانے کی میز پر قاہرہ کے ڈاکٹر جمعہ (مصری بولی میں جمعہ) بھی موجود تھے۔ گفتگو کے دوران گائے (بقرہ) کا ذکر آگیا۔ انھوں نے فوراً سورۃ البقرہ کی آیتوں کی تلاوت شروع کر دی۔ سب لوگ خاموش ہو کر سننے لگے۔
مصری قاریوں کی قرأت تو مجھ کو پسند نہیں لیکن مصری علماءء کی قرأت مجھ کو بہت پسند ہے۔ میں نہایت شوق کے ساتھ اس کو سنتا رہا۔ عام قاری جس طرح اشباع کے ساتھ پڑھتے ہیں وہ تو مجھے بالکل غیر فطری معلوم ہوتا ہے۔ مجھے یقین نہیں آتا کہ صحابہ اس طرح قرآن کو پڑھتے ہوں گے۔ لیکن عرب علماء، خاص طور پر حجاز کے علما کی قرأت مجھے وجدانی طور پر صحابہ کے انداز قرأت کا تسلسل معلوم ہوتی ہے۔ اس کو سن کر تھوڑی دیر کے لیے ایسا محسوس ہونے لگتا ہے جیسے زمانے کا فاصلہ ختم ہو گیا ہے اور ہم ایک زندہ ٹیپ ریکارڈر کے ذریعہ صحابہ کی تلاوت قرآن کو دوبارہ سن رہے ہیں۔ ایک مجلس میں کچھ عرب حضرات تھے۔ ایک صاحب نے اسپین میں مسلم سلطنت کے آخری زمانہ کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ اندلس کے آخری مسلم سلطان ابو عبد اللہ نے جب الحمراء کی کنجیاں عیسائی حکمرآں
‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues