No one has right to highjack the name of God.
الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۲۷
انھوں نے بتایا کہ انھوں نے ہندوستان کے مختلف شہروں کا سفر کیا ہے ۔ انھوں نے ہندو سادھوؤں اور سنتوں اور ہندوؤں کی مذہبی تنظیموں کا ذکر اتنی تفصیل کے ساتھ کیا کہ میں سمجھا کہ شاید وہ ہندو یا بدھسٹ ہیں۔ مگر پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ ایک مسیحی ہیں۔ البتہ ہند و فلسفہ سے انھیں دل چسپی ہے۔ اسی سلسلہ میں وہ ہندوستان بھی گئے۔
اسی میز پر ایک اور شخص بالکل عربوں کی طرح عربی زبان بول رہے تھے۔ میں سمجھا کہ وہ کوئی مسلمان ہیں۔ مگر بعد کو معلوم ہوا کہ وہ عیسائی تھے۔ اس طرح کے ہزاروں عیسائی مختلف مذاہب کے قریبی مطالعہ کے لیے ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ ہر مذہب کی زبان سیکھتے ہیں۔ وہ ہر ایک کے مذہبی پیشواؤں کے ساتھ رہتے ہیں ۔ حتیٰ کہ ان میں ایسے بھی ہیں جو کلچرل طور پر ان سے مماثلت اختیار کر لیتے ہیں ۔ مسلمانوں میں ایسی لگن والے لوگ نظر نہیں آتے۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ ان کا مذہب ان کے لیے دنیوی انٹرسٹ بن چکا ہے۔ مسلمانوں کے لیے یہی چیز آخرت کے انٹرسٹ کی خاطر ہو سکتی تھی۔ مگر آخرت کے انٹرسٹ میں لوگوں کے لیے اتنی کشش نہیں کہ وہ اس درجہ لگن کے ساتھ اس کے لیے کام کر سکیں۔ ایک عرب عالم نے اپنی تقریر میں شام و فلسطین کے تاریخی مقامات کا ذکر کیا۔ اس سلسلہ میں انھوں نے کہا : هذه الاماكن مليئة بالرموز المقدسة - عام اردوداں اس جملہ کو سنے تو شاید وہ سمجھے گا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مقدس مقامات اسرار سے بھرے ہوئے ہیں ۔ حالاں کہ ان کا مطلب یہ تھا کہ یہ مقامات مقدس نشانیوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ رمز (جمع رموز) کا لفظ عربی میں علامت یا نشانی کے لیے ہے مگر اُردو میں اس کو راز کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ ایک ہی لفظ عربی میں کچھ معنی میں ہے اور اُردو میں کچھ معنی میں۔ زبانوں میں اس طرح کی تو سیع عام ہے ۔ ایک زبان کا لفظ دوسری زبان میں کبھی سابق مفہوم ہی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی بدلے ہوئے مفہوم میں۔
ایک مسیحی مقرر نے کہا کہ ہمارے اندر سلف کرٹسم کی جرأت ہونی چاہیے ۔ لوگ سلف کر ٹسزم سے اس لیے گھبراتے ہیں کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح ہم اپنی نفی کرنے لگیں گے ۔ انھوں نے کہا کہ پہلے ہم کو غیر یہودی اور غیر اسلامی اور غیر عیسائی بننا پڑے گا۔ تب صحیح ڈائیلاگ ہوگا : If you want to start real dialogue, first you have to dejudise yourself, de Islamise yourself, de Chrischianise yourself.
‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues