Al-Risala · August 1995 · page 43

Good morning. This is a wake-up call.

الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۴۳

فوج کی تعداد ستر ہزار سے زیادہ تھی۔ اس موقع پر طارق نے پر جوش تقریر کی جو تاریخ کی کتابوں میں نقل ہوئی ہے۔ اس کی تقریر کا ایک جملہ یہ تھا کہ اس موقع سے فائدہ اٹھانا تمہارے لیے ممکن ہے اگر تم اپنے آپ کو موت کے حوالے کر دو (انتهان الفرصة فيه لممكن ان سمحتم لا نفسكم بالموت)

ایک عرب اسکالر نے اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج مسلمانوں میں یہ اسپرٹ موجود نہیں، اسی لیے وہ ہر جگہ ذلیل ہو رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر آپ موت کے منہ میں کود پڑیں تو آپ غالب آجائیں گے۔ موجودہ زمانہ میں بار بار مسلمان موت کے منہ میں کو دے ہیں ۔ ۱۸۵۰ء میں ہندوستانی علماء، شالی کے میدان میں موت کے منہ میں کو دپڑے۔ سید احمد شہید بریلوی کا قافلہ بالا کوٹ میں موت کے منہ میں کو دپڑا۔ اسی طرح فلسطین، کشمیر، چیچنیا، بوسنیا وغیرہ میں مسلمان موت کے منہ میں کودے ہوئے ہیں۔ مگر ان تمام اقدامات میں تباہی کے سوا کچھ اور مسلمانوں کے حصہ میں نہیں آیا۔ اس طرح کے مقابلوں میں کامیابی کے لیے موت کے منہ میں کو دنا صرف ایک جزئی عامل ہوتا ہے نہ کہ کلی عامل ۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں نے پورے ملک اسپین پر اپنی حکومت قائم کر لی تھی۔ مثلاً ریاض کے مجلہ الفيصل شعبان ۱۴۱۵ھ (جنوری ۱۹۹۵) میں شائع شدہ ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ آٹھویں صدی عیسوی میں طارق بن زیاد المغرب کے راستے اسپین میں داخل ہوا۔ اس کے ساتھ عربوں اور بربروں پر مشتمل ایک چھوٹی سی فوج تھی ۔ چار سال کی جنگی سرگرمیوں کے بعد اسلامی لشکر نے پورے اسپین پر غلبہ حاصل کر لیا ( - - الى ان سيطرت الجيوش الاسلامية على كل اسبانيا)، صفحہ ۵ ، مگر یہ بات صحیح نہیں۔ اصل یہ ہے کہ اسپین کے بڑے حصہ پر مسلمان غالب آگئے تھے تاہم ملک کا ایک حصہ پھر بھی عیسائیوں کے قبضہ میں رہا۔ ۶۱۰ء میں مسلمان اپنی آخری حد پر پہنچ چکے تھے ۔ مگر اس وقت بھی اسپین کے مغربی حصہ میں مسیحی ریاستیں قائم تھیں۔ مسیحیوں کا زیر قبضہ علاقہ پورے ملک کے رقبہ کا تقریباً چوتھائی حصہ تھا۔ مسلمانوں کے زیر قبضہ علاقہ کو اندلس کہا جاتا ہے (415 اسپین (اندلس) کے مسلم عہد کی آبادی کے بارہ میں حتمی اعداد و شمار حاصل نہیں ہیں۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے داخلہ کے وقت اسپین کے باشندوں کی تعداد تقریباً چالیس لاکھ (4,000,000) تھی۔ اس کے بعد جو عرب ہجرت کر کے وہاں گئے ان کی مجموعی تعداد پچاس ہزار سے زیادہ نہ تھی۔ بارسلونہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues

Printed page