Al-Risala · August 1995 · page 44

Good morning. This is a wake-up call.

الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۴۴

یونیورسٹی میں عربی کے پروفیسر جان جینز (Juan Vernet Gines) نے لکھا ہے کہ قبضہ کی ابتدائی صدیوں میں قبول اسلام کی لہر کی وجہ سے مسلم آبادی برابر بڑھتی رہی۔ اس نے اسپین کے عیسائیوں کی تعداد میں نمایاں کمی کر دی :

توالد و تناسل یا قبول اسلام کے ذریعہ اسپین کی آبادی میں جو اضافہ ہوا، اس کی مجموعی تعداد قطعی طور پر معلوم نہیں۔ تاہم دسویں صدی کے آخر میں مسلم اسپین کے سات بڑے شہروں (قرطبہ، طلیطلہ، المیریا، غرناطہ، سرقسطہ، بلنسیہ، مالقہ) میں آبادی کا جو اندازہ کیا گیا ہے، وہ مجموعی طور پر تین لاکھ تراسی ہزار (387,000) ہوتا ہے۔

مسلم اسپین سیاسی اعتبار سے کسی ایک وحدت کا نام نہیں تھا۔ اس کے تین بڑے دور ہیں۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، طارق بن زیاد نے ۷۱۱ء میں جبرالٹر کے راستہ سے داخل ہو کر اسپین (اندلس) میں مسلم سلطنت کی بنیاد رکھی۔ یہ پہلی اسپینی حکومت بغداد کی خلافت عباسی کے تحت تھی۔ اس حکومت کا پہلا امیر عبد العزیز بن موسیٰ تھا۔ اس نے اشبیلیہ کو اپنی راجدھانی بنایا تھا۔ دوسرے امیر ایوب بن حبیب نے قرطبہ کو راجدھانی بنایا۔

اس کے بعد اموی شہزادہ عبد الرحمن الداخل عباسیوں کی دار و گیر سے بھاگ کر اسپین پہنچا۔ اس نے یہاں اپنی ایک فوج بنائی۔ اس نے عباسیوں کی ماتحت حکومت کو ختم کر کے باقاعدہ طور پر آزاد اموی حکومت قائم کی جس کی راجدھانی قرطبہ تھی۔ یہ حکومت ۷۵۶ء سے لے کر ۱۰۳۱ء تک باقی رہی۔ اس کے بعد تیسرا دور آیا جب کہ اندلس میں طوائف الملوکی آگئی۔ ہر علاقہ کے امیر نے مرکز سے بغاوَت کر کے اپنی خود مختار حکومت قائم کر لی۔ اس طرح اندلس میں تقریباً بیس حکومتیں بن گئیں۔ ان چھوٹی چھوٹی حکومتوں کو عیسائی ایک ایک کر کے ختم کرتے رہے۔ یہاں تک کہ آخر میں غرناطہ کی محدود حکومت اسی طرح باقی رہ گئی جس طرح انیسویں کے وسط میں دہلی میں مغل بادشاہ کی حکومت باقی رہی تھی۔ یہ آخری حکومت بھی ۱۴۹۲ء میں عیسائیوں کے ہاتھوں ختم ہوگئی۔

مسلم اسپین میں جب سیاسی انتشار کی حالت پیدا ہوئی تو اس کو وقتی طور پر افریقہ کے حکمراں

‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues

Printed page