Good morning. This is a wake-up call.
الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۴۵
یوسف بن تاشفین نے ختم کئیا تھا۔ وہ 1086ء میں اسپین میں داخل ہوا۔ اس نے عیسائی حکمراں الفانسوشتم (Alfonso VI) کوشکست دی۔ باغی مسلم امراء کو زیر کیا۔ اس طرح اسپین میں ایک نیا مسلم دور شروع ہوا جو ۱۲۶۹ء تک چلا۔
تاہم یہاں کے مسلمان باہمی اختلافات کے نتیجہ میں مسلسل اندرونی اور بیرونی زیادتیوں کا شکار رہے ۔ آخری دور میں مسلم اسپین کی علامت سلطنت غرناطہ تھی ۔ اس کے حکمرانوں نے و لا غالب الا اللہ کو اپنا شعار بنایا۔ وہ اپنی عمارتوں وغیرہ پر کثرت سے اس لفظ کو تحریر کرتے تھے۔ یہ گویا اسلامی مزاج کا ایک اظہار ہے۔ مسلمان خواہ کسی بھی حالت میں ہوں، وہ ہمیشہ خدا ہی کو اپنا بڑا بنائے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ نہ صرف غیر حاکمانہ حیثیت میں بلکہ حاکمانہ حیثیت میں بھی خدا ہی کو غالب و قاہر سمجھتے ہیں۔ کبھی اور کسی حال میں یہ حقیقت ان کے ذہن سے محو نہیں ہوتی۔
میڈرڈ میں ایک عرب مسلمان سے اس موضوع گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ لوگوں نے اسپین سے مسلمانوں کے سیاسی اقتدار کے خاتمہ کو اسپین سے اسلام کے خاتمہ کے ہم معنی سمجھ لیا۔ حالاں کہ بطور واقعہ یہ درست نہ تھا۔ اگر لوگ تلك الايام نداولها بين الناس کے ذہن سے سوچتے تو وہ اسپین میں سیاسی اقتدار کے خاتمہ کے باوجود اسلام کے دینی وجود کو زندہ رکھ سکتے تھے مگر کئی صدیاں صرف فریاد و ماتم میں گزر گئیں۔ یہاں تک کہ خود تاریخ کی طاقتوں نے ظاہر ہو کر اسپین میں اسلام کے احیار نو کا کام شروع کر دیا۔
نئے تقاضوں کے تحت اسپین میں مستقل طور پر ایک عمل جاری ہو گیا ہے جس کو عرب دانش ور أسبنة التاريخ الاسلامى فى الاندلس کہتے ہیں۔ یعنی اندلس کی اسلامی تاریخ کو اسپینی بنانا۔ اس نئے رجحان کے تحت اسپین میں بہت سے کام کیے جا رہے ہیں مثلاً قرطبہ میں آپ دیکھیں گے کہ وہاں کی سڑکوں پر مسلم شخصیتوں کے بورڈ لگے ہوئے ہیں، مثلاً شارع ابن رشد، شارع ابن الولید، شارع المنصور، شارع الزهراوی، وغیرہ ۔ اسی طرح آپ قرطبہ جائیں تو وہاں کی سڑکوں کے کنارے آپ دیکھیں گے کہ عرب دور کے اہل علم کے مجسمے جگہ جگہ نصب کیے گئے ہیں۔ مثلاً ابن رشد جس کا مجسمہ ۱۹۶۰ء میں لگایا گیا۔ على بن حزم کا مجسمہ ۱۹۶۳ء میں، حکیم العیون محمد بن قسوم کا مجسمہ ۱۹۶۵ء میں ، اور اسی طرح دوسرے بہت سے مجسمے ۔ حتی کہ غرناطہ کے قریب ایک ساحلی مقام المونيكر (Almunecar) پر عبد الرحمن الداخل کا بہت بڑا مجسمہ لگایا گیا
‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues