Al-Risala · August 1995 · page 49

Good morning. This is a wake-up call.

الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۴۹

میں تیرہ سال تک سرویر جنرل رہا۔ اسی نے پہلی بار ۱۸۵۲ء میں یہ دریافت کیا کہ ایورسٹ سطح زمین پر سب سے اونچی چوٹی ہے۔

اس کا ذکر کرتے ہوئے میں نے ایک صاحب سے کہا کہ یہ دونوں واقعہ علامتی طور پر بتاتا ہے کہ انیسویں صدی کے مسلمانوں کے مقابلہ میں آٹھویں صدی کے مسلمانوں میں کیا فرق تھا۔ پہلے زمانہ کے مسلمان اعلیٰ عزم و حوصلہ کے مالک تھے۔ اس لیے ان کا نام پہاڑوں کی چوٹیوں پر لکھا گیا۔ اس کے بعد انیسویں صدی میں دوسری قومیں عزم و حوصلہ میں آگے بڑھ گئیں، اس لیے اب ان کا نام پہاڑوں کی چوٹیوں پر لکھا جانے لگا۔ یہ انسانی اوصاف میں فرق کا معاملہ ہے نہ کہ کسی تعصب اور سازش کا معاملہ۔ کہا جاتا ہے کہ دوسری عالمی جنگ (۱۹۳۹ء - ۱۹۴۵ء) تک یورپ کے چھوٹے بڑے آٹھ سامراجی ممالک دنیا پر اپنا تسلط قائم کیے ہوئے تھے۔ مگر دوسری عالمی جنگ کے بھو نچال نے ان سب کا خاتمہ کر دیا۔ یہ تھے برطانیہ، فرانس، جرمنی، ہالینڈ، بیلجیم، اٹلی، پرتگال اور اسپین۔

امریکہ کو دریافت کرنے والا کرسٹو فر کولمبس اٹلی میں پیدا ہوا۔ مگر اس کی وفات اسپین میں ہوئی۔ کولمبس کو اپنی سمندری مہم میں اسپین کی کوئن ازابیلا (Isabella I) سے خصوصی مدد ملی جس نے اس مہم کی سرپرستی قبول کی تھی ۔ (10/691 ، 9/907)

واشنگٹن کی نیشنل گیلری آف آرٹ میں لکڑی کے تختہ پر پینٹنگ کے ذریعہ کولمبس کی مہم کا نقشہ آرٹسٹ کے تخیل کے مطابق بنایا گیا ہے۔ اس کی تصویر ذیل میں درج ہے۔

امریکہ کے جنوب مشرقی علاقہ میں ایک ریاست ٹینیسی (Tennessee) ہے، ۱۹۶۵ء میں سوہلویں

‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues

Printed page