Good morning. This is a wake-up call.
الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۵۷
تک حجازی تہذیب یا اسلام کا معاملہ ہے اس کا وجود خاندانی اقتدار کے خاتمہ کے بعد بھی اسپین میں باقی تھا اور آج بھی وہ وہاں موجود ہے۔
اقبال نے فاتح اسپین طارق بن زیاد کے بارہ میں لکھا ہے کہ طارق نے جب اندلس کے ساحل پر اپنی کشتی کو جلا دیا تو لوگوں نے کہا کہ عقل کی نظر میں یہ تم نے غلط کام کیا : طارق چو بر کناره اندلس سفینه سوخت گفتند کار تو به نگاه خرد خطاست حالانکہ کشتیوں کو جلانے کا یہ افسانہ بالکل بے بنیاد ہے ۔ اور وہ کسی بھی قابل اعتماد تاریخی کتاب میں موجود اسی طرح اقبال اپنی ایک نظم میں کہتے ہیں :
آسماں نے دولتِ غرناطہ جب برباد کی ابن بدروں کے دلِ ناشاد نے فریاد کی یہ بھی اقبال کی ایک تاریخی بھول ہے۔ کسی ابن بدرون نے کبھی غرناطہ کا مرثیہ نہیں لکھا۔ اصل یہ ہے کہ ابن عبدون الفهری (م ۵۲۹ھ) ایک اسپینی شاعر تھا۔ اس کا تعلق بطلیوس (Badajoz) کے مسلم حکمراں متوکل بن المظفر سے تھا جو ملوک الطوائف میں سے ایک تھا۔ ابن عبدون اسی متوکل کا وزیر تھا اور شاعر بھی تھا۔ متوکل بن المظفر کو یوسف بن تاشفین نے اس کے دو بیٹوں سمیت مروادیا تھا۔ اس المیہ پر ابن عبدون نے عربی میں ایک مرثیہ لکھا ۔ اس مرثیہ کا تعلق سقوط بطلیوس سے تھا نہ کہ سقوطِ غرناطہ سے۔ ابن عبدون کے اس مرثیہ کی شرح ایک صاحب نے کی جو شاعر نہیں تھے بلکہ صرف عالم تھے۔ ان کا نام ابن بدرون (عبد الملک بن عبد اللہ بن بدرون) تھا۔ انھوں نے ۶۰۸ ھ میں وفات پائی۔ مسجد قرطبہ پر اقبال کی طویل نظم کا ایک مصرعہ ہے : کا فرِ ہندی ہوں میں دیکھ میرا ذوق و شوق۔ اس طرح کے بہت سے اشعار اقبال کے یہاں پائے جاتے ہیں۔ مثلاً انھوں نے اپنے بارہ میں کہا : مرا بنگر در ہندوستان دیگر نمی بینی برہمن زاده داناے رمز روم و تبریز است اسی طرح وہ اپنی ایک نظم میں کہتے ہیں " سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا" حتیٰ کہ ان کی ایک تعریفی نظم رام کے بارہ میں بھی ہے جس کا ایک شعر یہ ہے :
ہے رام کے وجود پہ ہندوستاں کو ناز اہلِ وطن سمجھتے ہیں اس کو امامِ ہند اقبال کے اس قسم کے اشعار کو اُس زمانہ میں برا نہیں مانا گیا۔ لیکن اس طرح کی بات اگر آج کوئی لکھے
‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues