الم تك معقلا للدين صعبا فذلله كما شاء المتبدير
الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۶۲
قد أوضح الله للاسلام منهاجا والناس قد دخلوا فى الدين افواجا دوسرا شاعر مسلم سلطنت کے خاتمہ کے بعد کہتا ہے کہ کیا یہ شہر دین اسلام کا محفوظ قلعہ نہ تھا۔ مگر خدا نے اس کو ذلیل کر دیا :
الم تك معقلا للدين صعبا فذلله كما شاء المتبدير
ایک اور شاعر کے مرثیہ کا ایک شعر یہ ہے کہ ہر چیز جب مکمل ہو جاتی ہے تو اس میں نقص کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اس لیے کسی آدمی کو خوش گوار زندگی سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے : لكل شيئ اذا ما تمّ نقصان فلا يغرّ بطيب العيش انسانُ یہ تین اشعار نہ صرف اسپین کے مسلم دور کی تصویریں ہیں۔ بلکہ اس میں پوری دنیا میں مسلمانوں کے عروج و زوال کا نقشہ دیکھا جا سکتا ہے۔
اندلس میں دوسری ترقیوں کے ساتھ فنِ موسیقی اور آلاتِ موسیقی کی بھی کافی ترقی ہوئی۔ اس موضوع پر مستقل کتابیں لکھی گئی ہیں۔ میں نے عبدالعزیز بن عبدالجلیل کی کتاب الموسيقا الاندلسية المغربية دیکھی۔ یہ کتاب ۱۹۸۸ میں کویت سے چھپی ہے۔ وہ ۲۷۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ تاہم اس موضوع سے نا آشنا ہونے کی بنا پر وہ میری سمجھ میں زیادہ نہ آ سکی۔
اسپین کی مسلم سلطنت کے زوال کے بعد جب ان حکمرانوں کی بنائی ہوئی عمارتیں کھنڈریا غیر آباد ہو چکی تھیں ۔ ان کے محلوں اور باغوں میں انسانوں کے بجائے جانور رہنے لگے تھے۔ اس زمانہ میں ۴۴۵ھ میں ابو الحرم بن محمد بن جہور کا گزر مدینۃ الزهراء سے ہوا۔ اس نے جب شاہی دور کی ان برباد عمارتوں کو دیکھا تو اس پر ایک عجیب حیرت طاری ہو گئی۔ اس نے اپنے تاثر کا اظہار ان اشعار میں کیا ہے : قلتُ يوماً لدارِ قومٍ تفانوا اين سكّانُك العِزاز علينا فاجابت هنا ا قاموا قليلا ثم ساروا ولستُ اعلم اينا یعنی وہ قوم جو فنا ہو گئی ، میں نے ایک دن اس کے مسکن سے پوچھا۔ تمہارے وہ مکین کہاں گئے جو ہم کو بہت عزیز تھے۔ اس نے جواب دیا کہ تھوڑے دن وہ یہاں ٹھہرے تھے۔ پھر وہ چلے گئے اور مجھ کو نہیں معلوم کہ وہ کدھر گئے ( نفح الطيب )
یہ صرف مدینۃ الزهراء کے مکینوں کی کہانی نہیں ، یہی تمام انسانوں کی کہانی ہے۔ اس
‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues