Al-Risala · August 1995 · page 63

الم تك معقلا للدين صعبا فذلله كما شاء المتبدير

الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۶۳

دنیا میں جو بھی آتا ہے، تھوڑی مدت کے بعد وہ اس طرح یہاں سے چلا جاتا ہے کہ اس کے چھوڑے ہوئے کھنڈروں کے سوا کوئی اور نشان اس کا یہاں باقی نہیں رہتا۔

اسپینی زبان میں ابھی تک ایک مثل ہے جس کا ترجمہ عربی میں ایک شخص نے اس طرح کیا : کل مَنْ أَحَبَّهُ اللَّهُ وَنَقَلَهُ مِنْزِلاً فِي اِشْبِيْلِيَهِ (جس آدمی سے خدا مجبت کرتا ہے، اس کو اشبیلیہ میں ایک مکان دے دیتا ہے)

یہ مثل اس وقت بنی جب اشبیلیہ (اور دوسرے اندلسی شہروں میں) مسلم تمدن کا غلبہ تھا۔ اس وقت یہ شہر عمدہ مکانات، سڑکیں، باغات اور صاف ستھری زندگی کے لیے ایک عالمی نمونہ بنے ہوئے تھے۔ المعتمد بن عباد اسی اشبیلیہ کا حکمراں تھا۔ یہاں ابھی تک ایک قدیم عمارت الکازار کے نام سے ہے۔ جو القصر کی اسپینی صورت ہے۔ ایک تعلیم یافتہ عرب نے فخر کے ساتھ اس واقعہ کو دہرایا کہ ملوک الطوائف کے زمانہ میں جب عیسائیوں کے حوصلے بڑھ گئے اور المعتمد بن عباد نے افریقہ کے حکمراں یوسف بن تاشفین کو مدد کے لیے بلایا۔ اس وقت ایک مسلمان نے اس کو یہ کہہ کر ڈرایا کہ جب یوسف بن تاشفین یہاں اپنی فوجوں کو لے کر آئے گا تو وہ تم کو بے دخل کر کے خود تمہاری سلطنت پر قبضہ کر لے گا۔ المعتمد نے جواب دیا: رعى الجمال ولا رعى الخنازير - یعنی اگر میں ایک عرب بادشاہ کا قیدی بن کر اس کا اونٹ چراؤں تو یہ اس سے بہتر ہے کہ میں ایک فرنگی بادشاہ کا قیدی بن کر اس کی خنزیر پروں کو چراؤں۔ ایک صاحب نے فخر کے ساتھ اس قول کو دہرایا۔ میں نے کہا کہ انسانوں کو "اونٹ" اور "خنزیر" میں بانٹنا یہ خالص قومی مزاج ہے۔ مومن کا مزاج داعیانہ مزاج ہوتا ہے۔ وہ تمام انسانوں کو اللہ کے بندوں کے روپ میں دیکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی غیر داعیانہ مزاج اندلسی مسلمانوں کی تباہی کا سبب بنا۔ عیسائیوں کو "خنزیر" سمجھنے کے بجائے اگر وہ ان کو "مدعو" سمجھتے تو شاید اسپین کی تاریخ دوسری ہوتی۔ ایک عرب سیاح نے اپنے اسپینی سفر کے تاثرات بتاتے ہوئے کہا کہ حب میں نے قرطبہ کی تاریخی یادگاریں دیکھیں جو ابھی تک اپنی عظمت کی داستان سنا رہی ہیں تو بے اختیار میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت حالت یہ تھی کہ سیاحوں کے قافلے میرے پاس سے گزر رہے تھے اور وہ میری حالت کو دیکھ کر سمجھ جاتے تھے کہ یہ ایک عربی ہے جو اپنے اسلاف کی عظمت پر رو رہا ہے ( تمرّ بي قوافل السياح فيعرفون اني عربي ابكي مجدا اجدادي)

‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues

Printed page