الم تك معقلا للدين صعبا فذلله كما شاء المتبدير
الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۶۵
موجودہ الحمراء میں کچھ حصہ مسلمانوں کا بنایا ہوا ہے اور کچھ حصہ بعد کے عیسائی حکمرانوں کا۔ الحمراء کے ایک خاص حصے میں سفید سنگِ مرمر سے بنے ہوئے بارہ شیر ہیں۔ یہ گویا طاقت اور ہمت کی علامت ہیں۔ قصر کے اس حصہ کے مختلف نام ہیں __ فناء السباع ، دیوان الاسد ، مأسدة ، بيت الاسود ۔
الحمراء صرف ایک محل نہیں ، وہ نہایت وسیع باغات کے درمیان بیرونِ شہر گویا ایک شاہی اقامت گاہ تھی ۔ اس کی تعمیر پر بہت زیادہ دولت خرچ کی گئی۔ تا ہم اس کا تعمیراتی سامان زیادہ مضبوط نہ تھا ۔ اپنے عظیم حسن کے باوجود وہ غیر مستحکم تعمیری سامان کے ذریعہ بنی ہوئی ایک عمارت کہی جائے گی ۔ الحمراء کے محلات اس وقت بنائے گئے جب کہ یہاں کی مسلم حکومت سمٹ کر صرف غرناطہ تک محدود ہو گئی تھی ۔ اس کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ لال قلعہ کے حکمرانوں کی طرح وہ باہر سے مضبوط پتھر بڑی مقدار میں منگا سکے ۔ وہ زیادہ مستحکم عمارت کھڑی نہیں کر سکتے تھے ، اس لیے شاید اپنی اس کمزوری کو چھپانے کے لیے انھوں نے زیادہ خوب صورت عمارتیں کھڑی کر دیں ۔
قصر الحمراء ۲۲۰۰ مربع میٹر کے رقبہ میں واقع ہے ۔ اس کے ہر حصہ میں آیتیں ، حدیثیں ، دعائیں ، اشعار اور دوسری عربی عبارتیں لکھی ہوئی دکھائی دیتی ہیں ۔ خاص طور پر بنو الاحمر کا خاندانی شعار ولا غالبَ إلا اللہ اس کے ہر حصہ میں نقش کیا ہوا نظر آتا ہے ۔
آخری دور کی سلطنتِ غرناطہ (۱۳۳۲ء۔ ۱۳۹۲ء) کا بانی محمد بن یوسف الاحمر تھا۔ وہ ارجونہ کا قلعہ دار تھا۔ اس نے بغاوت کر کے غرناطہ پر قبضہ کر لیا ، اور اپنا لقب الغالب باللہ اختیار کیا ۔ اسی سلطنت کے زمانہ میں غرناطہ کا مشہور قصر الحمراء تعمیر ہوا ۔ اس خاندان ( بنو احمر ) کے حکمراں نے اسی لفظ کو اپنا شعار بنا لیا ۔ وہ عمارتوں وغیرہ پر کثرت سے ولا غالبَ إلا اللہ لکھا کرتے تھے ۔
اقبال ۱۹۳۳ء میں اندلس گئے تھے ۔ واپسی کے بعد انھوں نے مختلف مواقع پر اپنے سفر کے تاثرات بتائے ۔ ایک موقع پر انھوں نے کہا : میں الحمراء کے ایوانوں میں جا بجا گھومتا پھرا ۔ مگر انسانوں سے خالی اس قصر میں ( جدھر نظر اٹھتی ، دیوار پر ھو الغالب لکھا ہوا نظر آتا تھا ۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ یہاں تو ہر طرف خدا غالب ہے۔ کہیں انسان نظر آئے تو بات بھی ہو ۔ ( اقبال یورپ میں ، از سعید اختر درانی )
‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues