الم تك معقلا للدين صعبا فذلله كما شاء المتبدير
الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۶۶
یہ احساس بڑا عجیب ہے۔ میرا اپنا حال تو یہ ہے کہ مجھے انسانوں کی بھیڑ میں بھی خدا ہی دکھائی دیتا ہے اور وہاں بھی میرے اندریناجی رتبہ کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ مگر اقبال خدا کے ذکر کے ہجوم میں کسی انسان کو تلاش کر رہے ہیں تاکہ اس سے وہ ہم کلام ہو سکیں۔ پچھلے چودہ سو سال میں مسلم دنیا میں جو اہل دماغ پیدا ہوئے اس کی فہرست میں ابن خلدون کا نام ممتاز طور پر شامل ہے۔ اس کا اسلوب تحریر اور اس کا طرز فکر دونوں انتہائی حد تک اوریجنل تھا۔ وہ ان چند مسلم اہل علم میں سے ہے جنہوں نے اپنے افکار کی آفاقیت کی بنا پر عالمی سطح پر اپنا اعتراف حاصل کیا، اگر چہ یہ عالمی اعتراف اس کو پانچ سو سال بعد مل سکا۔ ابن خلدون تیونس میں ۱۳۳۲ء میں پیدا ہوا۔ اور ۱۴۰۶ء میں قاہرہ میں اس کی وفات ہوئی ۔ تاہم اس کی زندگی کا ایک قابل لحاظ حصہ اندلس میں گزرا ۔ اور اگر اس کے حاسدین اور مخالفین نے اس کو اندلس چھوڑنے پر مجبور نہ کیا ہوتا تو اس کی قبر شاید قاہرہ کے بجائے قرطبہ یا غرناطہ میں ہوتی۔ پروفیسر چارلس اساوی (Charles Issawi) نے لکھا ہے کہ ۱۸۶۰ء میں مقدمہ کا مکمل ترجمہ فرانسیسی زبان میں شائع ہوا، اس کے بعد ہی ایسا ہوا کہ ابن خلدون کو اپنی عظیم حیثیت کے مطابق عالمی مقام ملے :
But it was only after the 1860s, when a complete French translation of The Muqaddima appeared, that Ibn Khaldun found the worldwide audience his incomparable genius deserved. (9/149)
ایک مستشرق نے اپنا ایک مقالہ دکھایا۔ اس کا ایک حصہ ابن خلدون کے بارہ میں تھا۔ اس نے لکھا تھا کہ عباسی خلافت کے بعد اسلامی حکومت کا آرتھوڈاکس پولیٹیکل نظریہ ایک بحران کا شکار ہو گیا۔ ابن خلدون نے سیاسی ڈھانچہ کے مقابلہ میں سماجی اور طبعیاتی طاقتوں کی اہمیت پر زور دیا۔ اس نے عباسی خلافت کے تحت کلاسیکل سیاسی اتحاد کے تصور کو رد کر دیا۔ البتہ اس نے تمام مسلمانوں کے روحانی اتحاد کا اقرار کیا :
He rejected the classical political unity under the Abbasid Caliph but admitted the spiritual unity of all Muslims. مذکورہ فرانسیسی مستشرق نے پوچھا کہ ابن خلدون کے اس نظریہ کے بارہ میں آپ کی رائے کیا
‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues