الم تك معقلا للدين صعبا فذلله كما شاء المتبدير
الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۶۹
ایک کاغذ ملا۔ اس میں سلطان نے اپنے ان دنوں کا حال خود اپنے قلم سے لکھا تھا جو غم سے خالی تھے۔ مگر پچاس سالہ دور حکومت میں ایسے بے فکری کے ایام کی تعداد صرف چودہ دن تھی۔ سلطان کے انتقال کے بعد اس کا بیٹا الحکم بن عبدالرحمن قرطبہ کے تخت پر بیٹھا۔ قصر الزھراء جو اس کے باپ نے بے پناہ محنت اور لاتعداد دولت کے ذریعہ بنایا تھا اس کو وراثت میں مل گیا۔ اس نے اپنا شاہی لقب المستنصر باللہ اختیار کیا۔
الحکم نے پندرہ سال تک نہایت شان و شوکت کے ساتھ حکومت کی۔ مگر اس کے بھی آخری ایام مایوسی کے ایام تھے۔ کیوں کہ آخری زمانہ میں وہ مفلوج ہو گیا اور فالج کی حالت ہی میں ۳۶۶ھ میں قرطبہ میں اس کا انتقال ہو گیا (توفی بقرطبة مفلوجاً)
قصر الزھراء نہایت خوب صورت ہونے کے ساتھ بہت بڑا تھا۔ اسی لیے اس کو مدینۃ الزھراء کہا جاتا تھا۔ اس میں تفریح اور عیش کے تمام اسباب اکٹھا کیے گئے تھے۔ وہ چالیس سال میں بن کر تیار ہوا تھا۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس کے جلد ہی بعد زوال شروع ہوا، اور تعمیر کے بعد چالیس سال سے بھی کم مدت میں وہ کھنڈر ہو کر رہ گیا۔ کہا جاتا ہے کہ قاضی منذر نے اس کی بابت یہ شعر کہے تھے کہ اسے زھرا کو بنانے والے جو اپنے وقت کو اس میں غرق کیے ہوئے ہے، کیا تم ٹھہر کر غور نہیں کرتے۔ وہ کتنا زیادہ خوب صورت ہے، بشرطیکہ اس کی رونق پژمردہ نہ ہوتی :
يا باني الزهراء مستغرقا اوقاته فيها أما تمهل لله ما احسنها رونتا لو لم تكن زهرتها تذبل اندلس میں عربوں نے جو سیاسی نظام قائم کیا وہ اس طرح تھا کہ ایک ان کا مرکزی سلطان یا خلیفہ ہوتا تھا اور مختلف علاقائی حصوں میں ماتحت امیر ہوا کرتے تھے جن کو آج کل کی زبان میں گورنر کہا جا سکتا ہے۔ ابتداً کئی سو سال تک عربوں میں سے امراء مقرر کیے جاتے تھے۔ کیوں کہ یہ خیال تھا کہ وہ ہم نسل ہونے کی بنا پر زیادہ قابل اعتماد ثابت ہوں گے۔
مگر اس دنیا میں ہمیشہ ہر دوسری چیز پر انٹرسٹ فائق ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ سیاسی انٹرسٹ نے ان امراء کے اندر بغاوت کا رجحان پیدا کیا۔ ہر عرب اپنے علاقہ کو مرکز سے الگ، کر کے خودمختاری کا خواب دیکھنے لگا۔ اس کے نتیجہ میں مرکزی سلطان اور امراء کے درمیان لڑائیاں جاری ہو گئیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues