Al-Risala · August 1995 · page 70

الم تك معقلا للدين صعبا فذلله كما شاء المتبدير

الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۷۰

عبدالرحمن الثالث نے اس پالیسی کو بدلا۔ اس نے عرب امراء کا زور توڑنے کے لیے۔ برابر قبائل میں امیر اور وزیر مقرر کرنا شروع کیا۔ ابتداء میں یہ لوگ بہت وفادار رہے ۔ کیوں کہ امیر اور وزیر کے عہدے سے ان کی توقعات سے بہت زیادہ تھے۔ مگر دھیرے دھیرے جب وہ دولت اور اقتدار سے آشنا ہو گئے تو ان کے ذہن میں بھی بغاوت کے خیالات پرورش پانے لگے۔ عبدالرحمن الثالث کی زندگی تک تو یہ لوگ دبے رہے۔ مگر اس کی موت کے بعد وہ سب کے سب سرکش بن کر کھڑے ہو گئے۔ انھوں نے راجدھانی قرطبہ پر حملے کئے ۔ قصر الزہراء کو تباہ کر ڈالا ۔

ہر شہر اور ہر علاقہ کا امیر مرکز کا باغی ہو گیا ۔ حتی کہ اندلس میں تقریباً دو درجن چھوٹی چھوٹی سلطنتیں قائم ہو گئیں۔ جن کو الگ الگ فتح کرنا عیسائیوں کے لیے آسان ہو گیا ۔

سرکشی اور بغاوت کا تعلق عرب اور غیر عرب سے نہیں ہے، اس کا تمام تر تعلق انٹرسٹ سے ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی اپنے انٹرسٹ کی طرف دوڑتا ہے۔ اسی سے انتشار اور بغاوت کی صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔ اس سے رو کنے والی چیز صرف تقویٰ ہے، اور ایسا تقویٰ کسی بہت خوش نصیب آدمی ہی کو ملتا ہے جو انٹرسٹ کے خلاف اس کے لیے چیک بن جائے۔

روایت کو توڑنے سے کتنی بڑی خرابی آتی ہے ، اس کی بہت سی مثالیں اسپین کی مسلم تاریخ میں موجود ہیں ۔ مثلاً سلطنت غرناطہ کا تیسرا حکمراں محمد مخلوع تھا۔ اس کو اس کے بھائی نصر بن محمد نے ۷۱۰ ھ میں قتل کرا دیا تاکہ اس کا کوئی سیاسی رقیب باقی نہ رہے۔ مگر یہ جان کے احترام کی روایت کو توڑنا تھا۔ چنانچہ اس کے بعد حکمرانوں کے قتل کا لمبا سلسلہ شروع ہو گیا۔

اس کے بعد سلطان ابو الولید کو اس کے بھتیجے نے ۷۲۵ھ میں قتل کر ڈالا۔ اس کے بعد سلطان محمد غرناطہ کے تخت پر بیٹھا۔ اس کو بھی اس کے رشتہ داروں نے ۷۳۳ھ میں قتل کر دیا۔ اس کے بعد سلطان یوسف کو حاکم بنایا گیا ۔ مگر وہ بھی ۷۵۵ھ میں نیزہ مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ پھر سلطان اسماعیل تخت نشین ہوا۔ مگر ۷۶۱ھ میں خود اس کے بھائی نے اس کو قتل کر ڈالا ۔ وغیرہ کسی سماج میں یہ روایت قائم کرنا ہو کہ انسانی جان کا احترام کیا جانا چاہیے۔ اور اس کو کسی حال میں قتل نہیں کرنا چاہیے ، تو یہ روایت ایک لمبی تاریخ کے بعد بنے گی۔ مگر اس روایت کو توڑنے کے لیے کسی مدت کی ضرورت نہیں۔ اور جب کوئی روایت ایک بار توڑ دی جائے تو پھر اس کو از سر نو

‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues

Printed page