الم تك معقلا للدين صعبا فذلله كما شاء المتبدير
الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۷۱
قائم کرنا انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔ روایت شکنی کے اسی خطرہ سے حدیث میں اس طرح آگاہ کیا گیا تھا کہ : اذا وضع السيف في امتي لم يرفع عنها الى يوم القيامة ( ابوداؤد ، كتاب الفتن) سقوط اندلس پر بہت سے شاعروں نے مرثیے لکھے ہیں۔ ان میں زیادہ تر فریاد و ماتم کا انداز ہے۔ تاہم مجھے ابو علی الحسن بن رشیق کے دو شعر بہت پسند ہیں۔ اس نے کہا کہ اندلس کی سرزمین میں جو چیز مجھے بے لطف کرتی ہے ان میں سے معتمد (جس پر اعتماد کیا جائے) اور معتضد (نهایت مضبوط) جیسے القاب ہیں۔ یہ شاہانہ القاب اسی طرح غیر واقعی ہیں جیسے کوئی بلی نتھنے پھلا کر شیر کی صورت کی نقل کرنے لگے :
مما يُزَهِّدُني في ارض اندلُسٍ اسماءُ مُعْتَمَدٍ فيها ومُعْتَضِدِ القابُ مملكةٍ في غير موضعِها كَالْهِرِّ يَحكي انتفاخاً صورةَ الاسدِ یہ دونوں شعر ابن خلدون نے اپنے مقدمہ میں خلافت کی بحث کے تحت نقل کیے ہیں (صفحه ۲۲۹) ایک حاکم کو جب سادہ طور پر امیر المومنین کہا جائے تو اس کے نہ رہنے سے لوگوں میں صرف یہ احساس پیدا ہوگا کہ ہمارا سیاسی حاکم نہ رہا۔ لیکن اگر اس کو جہاں پناہ اور محافظ اسلام جیسے القاب سے یاد کیا جانے لگے تو اس کے ہٹنے کے بعد لوگوں کو ایسا محسوس ہوگا کہ وہ آخری طور پر لٹ گئے۔ اب ان کے پاس قیام حیات کے لیے کچھ باقی نہیں رہا۔
مسلم اسپین صرف تمدنی ترقی ہی کی مثال نہیں تھا۔ اسی کے ساتھ وہ رواداری کی بھی نہایت اعلیٰ مثال تھا۔ عرب اپنے مزاج کے اعتبار سے نہایت فیاض اور روادار واقع ہوئے تھے۔ اسی کے ساتھ وہاں کے کام کی نوعیت یہ تھی کہ مسلم اہل علم کے ساتھ یہودی اور عیسائی اہل علم اور فن کار بھی مساوی طور پر شریک رہتے تھے۔ اس طرح اشتراک عمل کے ماحول نے باہمی رواداری کا ماحول بھی اپنے آپ پیدا کر دیا تھا۔
فرانسیسی مستشرق رینان (Renan) نے ابن رشد پر اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ سائنس اور لٹریچر کے ذوق نے دسویں صدی میں دنیا کے اس خصوصی گوشہ میں رواداری کا ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا جس کا نمونہ موجودہ زمانہ میں مشکل سے کہیں مل سکتا ہے۔ مسیحی ، یہودی اور مسلمان ایک ہی زبان (عربی) بولتے تھے۔ ایک ہی گیت گاتے تھے۔ ایک ہی طرح ادبی اور علمی مطالعہ میں حصہ لیتے تھے۔ وہ تمام
‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues