الم تك معقلا للدين صعبا فذلله كما شاء المتبدير
الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۷۲
رکاوٹیں جو لوگوں کو الگ کرنے والی ہیں، وہ سب ختم کر دی گئی تھیں۔ تمام کے تمام لوگ ایک مشترک تہذیب کے لیے مل کر کام کرتے تھے :
The taste for science and literature had, by the tenth century, established, in this privileged corner of the world, a toleration of which modern times hardly offer us an example. اب سوال یہ ہے کہ جب مسلم اسپین میں اتنا زیادہ رواداری کا ماحول تھا، پھر کیوں ایسا ہوا کہ وہاں کے مسیحی باشندے مسلمانوں کے دشمن ہو گئے اور ان کو وحشیانہ طور پر اپنے ملک سے نکالنا شروع کر دیا۔ اس کا سبب جو اس سفر کے بعد میرے علم میں آیا وہ یہاں کے مذہبی طبقہ کا جنون تھا۔ اصل یہ ہے کہ مسلم اسپین کے روادارانہ ماحول کا یہ نتیجہ ہوا کہ اسپین کے مسیحی باشندے خود بخود کثرت سے مسلمان ہونے لگے۔ بہت سے لوگ جنھوں نے اپنا مذہب نہیں بدلا، انھوں نے مسلمانوں کی تہذیب اختیار کرلی۔ چنانچہ ان کو مستعرب (Mozarab) کہا جانے لگا۔
مسیحی چرچ کے لیے یہ ناقابل برداشت تھا۔ مسلمانوں کے ذریعہ اسپین میں علوم کے دروازے کھلنا، زراعت، صنعت، تعمیرات اور دوسرے شعبوں میں غیر معمولی ترقی، سماجی زندگی میں انصاف اور رواداری کا آنا، اس قسم کی تمام مثبت چیزیں ان کے لیے غیر اہم بن گئیں۔ ان کو صرف یہ یاد رہا کہ ان کے ہم مذہب تیزی سے غیر مسیحی تہذیب کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔
چنانچہ انھوں نے اسپین کے مسیحیوں کو مسلمانوں سے روکنا شروع کیا۔ انھوں نے مختلف طریقوں سے مسلمانوں اور مسیحیوں میں دوری پیدا کرنے کی کوشش کی۔ مگر وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ آخر میں انھوں نے وہ مجنونانہ تدبیر اختیار کی جس کو عام طور پر رضا کارانہ شہادت (voluntary martyrdom) کہا جاتا ہے (ہسٹری آف دی عربس، ایڈیشن ۱۹۷۰، صفحہ ۵۱۶)
انھوں نے مسلمانوں کی نفسیات کا مطالعہ کر کے یہ نکالا کہ مسلمان اپنے پیغمبر کے خلاف باتوں کو سن کر بگڑ جاتے ہیں اور ایسے آدمی کو قتل کر دیتے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے سڑکوں پر نکل کر علی الاعلان پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بد زبانی اور بدگوئی شروع کر دی مقصد یہ تھا کہ مسلمان مشتعل ہو کر انھیں قتل کر ڈالیں اور اس طرح مسلمانوں کو بدنام کر کے مسیحیوں کو اسلام اور مسلمانوں سے متنفر کر دیا جائے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues