الم تك معقلا للدين صعبا فذلله كما شاء المتبدير
الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۷۳
اس انوکھی تدبیر کا چیمپین اسپین کا بشپ ایولو جیس (Eulogius) تھا۔ اس نے قرطبہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بار بار علی الاعلان سب وشتم کیا۔ اس کے بعد علماء کے فیصلے کے مطابق، سلطان عبد الرحمن دوم نے ۱۱ مارچ ۸۵۹ء کو اسے بر سر عام قتل کرا دیا۔ اس طرح ایک کے بعد ایک مسیحی چرچ کے افراد عوامی مواقع پر آکر شتم رسول کا فعل کرتے رہے، اور اس کے نتیجہ میں مسلم تلوار سے قتل کیے جاتے رہے۔ یہ واقعہ نویں صدی عیسوی میں قرطبہ میں پیش آیا جو اس وقت مسلم اسپین کا مرکز تھا۔ یہ عقوبت جس کے اسباب خود مسیحی لوگوں نے پیدا کیے تھے، آخر کار ۵۳ مسیحیوں کے قتل تک جا پہنچی :
اس قسم کے مجنونانہ واقعات نے اسپین کے مسیحیوں، خاص طور پر وہاں کے مذہبی طبقہ کے دل میں مسلمانوں کے خلاف سخت نفرت پیدا کر دی۔ یہاں تک کہ چرچ کے لیے آسان ہو گیا کہ وہ اسپین سے مسلمانوں کے اخراج عام کا فتوٰی جاری کر سکے۔
حکیم احمد شجاع صاحب کا خیال تھا کہ مدارس اسلامیہ کے نصاب میں علوم عصریہ کو بھی شامل کرنا چاہیے ۔ اس سلسلہ میں انھوں نے علامہ اقبال کو خط لکھا۔ اقبال نے انھیں جواب دیا کہ ان مدرسوں کو اسی حالت میں رہنے دو۔ اگر یہ ملانہ رہے تو ہندوستانی مسلمانوں کا وہی حال ہو گا جو اندلس میں آٹھ سو برس کی حکومت کے با وجود وہاں کے مسلمانوں کا ہوا (الفرقان، لکھنؤ، نومبر - دسمبر ۴۱۹۹، صفحہ ۲۳) میں سمجھتا ہوں کہ اقبال نے یہ بالکل الٹی بات کہی ۔ اندلس جیسا حال کسی مسلم قوم کا اس وقت ہوتا ہے جب کہ اس کے علماء اجتہاد کی صلاحیت سے محروم ہو جائیں ۔ اور اجتہاد کی صلاحیت سے محرومی اس وقت آتی ہے جب کہ وہ وقت کے تقاضوں سے بے خبر ہو گئے ہوں۔
اندلس کے اصحاب چرچ نے جب "رضاکارانہ شہادت" کا فتنہ کھڑا کیا، اس وقت وہاں کے علماء اگر اجتہادی صلاحیت کے حامل ہوتے اور مسیحی دنیا کے حالات سے پوری طرح باخبر ہوتے تو وہ فتویٰ دیتے کہ یہ چرچ کی ایک نہایت گہری سازش ہے۔ اگر ہم ان کو قتل کریں تو ہم خود ان کے مقصد کو پورا کرنے کا ذریعہ بن جائیں گے۔ اس لیے ہم کو انہیں قتل نہیں کرنا ہے بلکہ حکمت کے
‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues