Al-Risala · August 1995 · page 74

الم تك معقلا للدين صعبا فذلله كما شاء المتبدير

الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۷۴

ساتھ ان کو نا کام بنا دینا ہے۔ اور پھر وہ چرچ کی سازش کا توڑ اس طرح کرتے کہ اس کے جواب میں وہ تعارف اسلام کی پر امن مہم زور و شور کے ساتھ چلا دیتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ مسیحی عوام چرچ سے متنفر ہو کر تعلیمات محمدی کی طرف مائل ہو جاتے اور اتنی تیزی سے اسلام قبول کرتے کہ چرچ کی سازش بر عکس طور پر اندلس میں مسلمانوں کی مزید تقویت اور استحکام کا سبب بن جاتی۔ علماء کی حکیمانہ تدبیر چرچ کے پادریوں کو عوام کی نظر میں دیوانہ کا درجہ دے دیتی۔ مگر ان کی ناقص رہ نمائی نے ان پادریوں کو اندلس کے مسیحیوں کی نظر میں شہید اور ہیرو کا مقام عطا کر دیا۔ اور پھر وہ کچھ پیش آیا جو اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔

ایک یورپی اسکالر (مستشرق) نے اسپین میں مسلم سلطنت کے زوال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان میں داخل ہوئے تو ابتدائی مرحلہ میں طارق اور نصیر نے بغداد کی مدد سے یہاں کی مسیحی فوجوں پر فتح حاصل کی تھی۔ مگر آخری مرحلہ میں مسیحی قوتوں کے مقابلہ میں وہ اپنے مرکز کی مدد سے محروم رہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اندلس میں قائم ہونے والی مسلم خلافت بغداد کی خلافت کی حریف بن گئی تھی۔ اس نے کبھی بھی بغداد کی مرکزی خلافت سے مصالحت کی کوشش نہیں کی : Rival caliphate of Cordova never reconciled itself to the central caliphate of Baghdad. یہ بات درست معلوم ہوتی ہے۔ عبدالرحمن بن معاویہ اموی جب عباسیوں کی دار و گیر سے بھاگ کر اندلس پہنچا تو اس وقت کے امیران اندلس خطبہ جمعہ میں بغداد کے خلیفہ کا نام لیتے تھے۔ عبد الرحمن نے ابتداءً ایسا ہی کیا۔ مگر بعد کو اس نے خطبہ میں بغداد کے عباسی خلیفہ کا نام لینا بند کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ ایسا اس نے خاندان بنو امیہ کے ایک شخص عبد الملک بن نے اندلس میں اپنی حکومت قائم کرنے کے سلسلہ میں عبد الرحمن کی مدد کی تھی : و هذا عبد الملك هو الذى ألزم عبد الملک ہی نے عبدالرحمن کو مجبور کیا کہ وہ خلیفہ عبد الرحمن بقطع خطبة المنصور منصور کا نام خطبہ میں لینا بند کر دے۔ عبدالملک و قال له ، تقطعها و إلا قتلتُ نے کہا کہ تم اس کو بند کرو ورنہ میں اپنے آپ کو نفسی ۔ و كان قد خطب له ہلاک کر لوں گا۔ چنانچہ عبدالرحمن نے اس کا خطبہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues

Printed page