Al-Risala · August 1995 · page 75

الم تك معقلا للدين صعبا فذلله كما شاء المتبدير

الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۷۵

عشرہ (شہر، فقطعها - پڑھنا بند کر دیا حالاں کہ دس مہینے تک اس نے الكامل في التاريخ لابن اثیر (۱۰/۶) خليفة بغداد ہی کا خطبہ پڑھا تھا۔ خلیفہ المنصور کو یہ خبر پہنچی تو وہ سخت غضب ناک ہوا۔ اس نے اندلس پر حملہ کرنے کا حکم دے دیا۔ اس کے بعد سے آخر تک بغداد کی خلافت اور اندلس کی مسلم ریاست کے درمیان معاونت کے بجائے رقابت کا رشتہ قائم ہوگیا۔ یہ رقابت صرف اس وقت ختم ہوئی جب کہ خود اندلس کی مسلم سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔

ڈاکٹر حسین مونس کا سفرنامہ رحلة الاندلس، حديث الفردوس الموعود کے نام سے ۱۹۶۳ میں جدہ سے چھپا تھا۔ وہ ساڑھے تین سو صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب ادبی اور جذباتی انداز میں ہے۔ چنانچہ وہ خود لکھتے ہیں : لان موضوعه يمس عاطفة المسلم و وجدان العربي (صفحه ۹) مصنف نے ایک جگہ لکھا ہے کہ اہل اسپین ہم سے ایک بالشت زمین بھی سخت معرکہ اور دو طرفہ اموات کے بغیر حاصل نہیں کر سکے۔ پھر کیسے یہ کہا جاتا ہے کہ عرب اس زمانہ میں کمزور ہو گئے تھے۔ ان پر عیش پسندی چھا گئی تھی۔ پھر جواب دیتے ہیں کہ جو ہوا وہ یہ تھا کہ قسمت نے اندلس میں ہمارا ساتھ نہیں دیا۔ ڈھائی صدیوں میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں اٹھا جو قیادت اور سیاست اور تدبیر کا جامع ہو ( الذي حدث هوان الحظ خافنا في الاندلس ۔ خلال هذين المترنين ونصف القرن لم يظهر رجل واحد جامع لصفات الزعامة والقيادة والسياسة والتدبير) صفحه ١٦٦ اس جواب کے بعد دوبارہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخری ڈھائی سو سال میں کیوں متاذانہ اوصاف کے لوگ پیدا نہیں ہوئے، جب کہ اس سے پہلے بار بار ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ کا تعلق دور زوال سے تھا نہ کہ افراد کی عدم پیدائش سے۔ یہ زوال ہر سلطنت اور ہر قوم پر آتا ہے۔ اس دنیا میں کوئی بھی اس قانون فطرت سے مستثنیٰ نہیں۔ لکھنو کے عربی جریدہ الرائد (۱۰ - ۲۶ رمضان ۱۴۱۲ھ) میں الاستاذ انور الجندی کا ایک مضمون نقل کیا گیا تھا جس کا عنوان تھا : هذا واجبنا - اس میں کہا گیا تھا کہ ہم مسلمانوں کی آج شدید ترین ضرورت ہے کہ ہم اندلس کے المیہ کا مطالعہ کریں، کیوں کہ ہم پچھلے چالیس سال سے پھر اندلس کے

‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues

Printed page