Al-Risala · August 1995 · page 79

الم تك معقلا للدين صعبا فذلله كما شاء المتبدير

الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۷۹

اپنے دین کو جاننے کی کوشش کرنا ان الدین النصرانی ليس ديننا و ليس هوالدين الحق - عندما تكبر حاول ان تعرف دينك) صفحہ ۸۸ الغرناطی نے بڑے ہونے کے بعد اسپین کی تاریخ کا مطالعہ کیا۔ اور پھر وہ اپنی دادی کی بات کو سمجھ گیا اب اس نے دین اسلام کو جان لیا اور اس پر مطمئن ہو گیا اور پاکستان جا کر اپنے اسلام کا اعلان کر دیا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد اسپین کے بہت سے لوگوں نے اس طرح دوبارہ اپنے اسلام کا اعلان کیا ہے۔

مسلم دانشوروں کا عام مزاج یہ ہے کہ وہ بلا تحقیق بڑی بڑی باتیں لکھتے رہتے ہیں۔ ان کے اس مزاج کا اظہار اسپین کے معاملے میں بھی بار بار ہوتا رہا ہے۔ مثلاً بمبئی کے ماہنامہ البلاغ (فروری ۱۹۹۵) میں ایک صاحب اسپین کے تذکرہ کے تحت لکھتے ہیں کہ ” یہ بھی تاریخ کا ایک المیہ ہے کہ جس اسپین پر مسلمانوں نے باضابطہ طور پر ۹۲ ھ ء تک حکومت کی، وہاں آج ایک مسلمان نہیں “ (صفحہ ۵۳) مگر جیسا کہ اوپر معلوم ہوا، یہ سراسر بے بنیاد بات ہے۔

اس قسم کی خلاف حقیقت باتیں مختلف عنوانات کے تحت اتنی زیادہ چھپی ہیں کہ اس نے موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو غیر ضروری طور پر بے ہمتی میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس سے بھی زیادہ بڑا نقصان یہ ہے کہ اس قسم کی منفی باتوں کی مسلسل تکرار نے موجودہ مسلمانوں کے ذہن میں یہ بٹھا دیا ہے کہ ساری دنیا ان کی دشمن ہے۔ ہر طرف ان کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔ ہر قوم ان کو ختم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ قوموں کی اس وہمی تصویر نے مسلمانوں سے ان کا سب سے زیادہ قیمتی سرمایہ ان سے چھین لیا ہے۔ اور وہ دنیا کی قوموں کے حق میں خیر خواہی کا جذبہ ہے۔ دعوت مسلمان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ مگر دعوت کا عمل انجام دینے کے لیے مدعو کے حق میں خیر خواہی درکار ہے، مسلمانوں کے دل میں دوسری قوموں کے لیے خیر خواہی نہیں، اس لیے ان کے یہاں اسلام کی داعیانہ طاقت کا استعمال بھی نہیں۔

عجیب بات ہے کہ اسپین کے سفر سے کچھ پہلے ہندوستان کے ایک مشہور عالم اور بزرگ کا خط (۴ اکتوبر ۱۹۹۴) مجھ کو ملا۔ موصوف نے اس میں مجھ کو کچھ مشورے دیے تھے۔ اور آخر میں اپنے مشورہ کی اہمیت وضرورت کو بتاتے ہوئے لکھا تھا کہ ۔ اس لیے کہ اس ملک کو اندلس ثانی

‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues

Printed page