Al-Risala · August 1995 · page 80

الم تك معقلا للدين صعبا فذلله كما شاء المتبدير

الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۸۰

بنانے کی بڑی منظم کوشش کی جارہی ہے“۔

ہندوستان اور اندلس دونوں سے تفصیلی واقفیت کی بنیاد پر میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ بات دہرانا غلط فہمی پر مبنی ہے۔ جہاں تک اندلس کا تعلق ہے، وہاں ہر قسم کی جارحیت کے باوجود کبھی بھی اسلام یا مسلمانوں کا وجود ختم نہیں کیا جا سکا تھا۔ اور اب تو وہاں دوبارہ اسلام اس شان کے ساتھ آرہا ہے کہ الصحوۃ الاسلامیۃ فی الاندلس الیوم جیسے ٹائٹل کے ساتھ کتاب میں چھپ رہی ہیں۔ پھر جب خود اندلس اول نہیں بن سکا تو اندلس ثانی آخر کیوں کر بن جائے گا۔ جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے تو یہاں مسلمانوں کو یقیناً کچھ مسائل کا سامنا ہے مگر یہ مسائل کسی نہ کسی صورت میں ہر جگہ ہیں، حتیٰ کہ مسلم ممالک میں بھی۔ اصل یہ ہے کہ مسائل زندگی کا جز ہیں، جو کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم مسائل کو چیلنج کے روپ میں لیں۔ نہ یہ کہ "اندلس ثانی" کا فرضی خطرہ بتا کر مسلمانوں کو پست حوصلہ کریں۔

دور اول میں مسلمانوں کو پہلے غزوہ بدر میں فتح حاصل ہوئی ۔ اس کے بعد غزوہ احد میں ان کو شکست ہو گئی ۔ اس پر لوگوں کے ذہن میں سوالات پیدا ہوئے ۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے قرآن میں فطرت کے ایک قانون کو بتایا گیا ہے ۔ وہ یہ کہ عسکری یا سیاسی فتح کسی ایک قوم کی اجارہ داری نہیں ہے ۔ وہ مختلف مصالح کے تحت مختلف قوموں کو باری باری دی جاتی ہے : ان يمسسكم قرح فقد مس القوم اگر تم کو زخم پہنچا ہے تو ان لوگوں کو بھی ایسا ہی قرح مثله و تلك الايام نداولها زخم پہنچ چکا ہے۔ اور (فتح و شکست کے) (آل عمران (۱۴۰) دن ہم لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔

اسپین کی سیاسی شکست کے معاملہ میں اور موجودہ زمانہ میں اس قسم کی دوسری شکستوں کے معاملہ میں ہمارے علماء اور دانشور جس طرح تبصرہ کرتے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امت کے اہل علم کا پورا طبقہ اس آیت کو بھول گیا ہے۔ ہمارے تقریباً تمام لکھنے اور بولنے والے اس طرح کی سیاسی شکستوں کو اعداء اسلام کی سازش کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں۔ حالاں کہ قرآن کے مطابق، ایسے تمام واقعات خود خدا کے فیصلہ کے تحت پیش آتے ہیں۔ وہ ایام الاعداء نہیں ہیں بلکہ وہ ایام اللہ ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues

Printed page