Al-Risala · August 1995 · page 92

مغربی یورپ میں پھیل گیا (صفحہ ۹۰

الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۹۲

جنگ میں وہ برطانیہ کے مقابل میں جرمنی کا ساتھ دیں۔ اس کا عنوان تھا ترکوں کا انتخاب : The Choice of the Turks مولانا محمد علی کا یہ طویل مضمون الفاظ کا ایک جنگل تھا جو تدبیر اور دور اندیشی سے یکسر خالی تھا۔ تاہم اس مضمون کی بنا پر نہیں بلکہ ترکی کے جذباتی وزیر جنگ انور پاشا کے جلد بازانہ اندازہ (hasty calculation) کی وجہ سے ترکی جرمنوں کی حمایت میں جنگ میں کود پڑا۔ اگرچہ ترک کیبنٹ کی اکثریت کی رائے یہ تھی کہ ترکی کو اس معاملہ میں غیر جانب دار (neutral) رہنا چاہیے۔

حالات کے عین فطری تقاضے کے تحت اس جنگ میں برطانیہ اور اس کے ساتھیوں کو فتح حاصل ہوئی اور جرمنی اور اس کے ساتھیوں کو بری طرح شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ اس کے قدرتی نتیجہ کے طور پر بعد از جنگ سودا بازی (Postwar bargaining) شروع ہوئی۔ فاتح طاقتوں نے ترکی کی عثمانی خلافت کو تقسیم کر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔

مثلاً روس نے درہ دانیال پر قبضہ کر لیا۔ فرانس نے شام پر اپنی بالا دستی قائم کرلی۔ برطانیہ نے مصر کو اپنے سیاسی دائرہ میں شامل کر لیا۔ فلسطین کو ایک انٹر نیشنل علاقہ قرار دے دیا گیا ۔ ۲ نومبر ۱۹۱۷ء کو بالفور ڈکلریشن (Balfour Declaration) جاری ہوا جس میں یہودیوں کے لیے فلسطین میں ایک نیشنل ہوم بنانے کا وعدہ کیا گیا ۔ وغیرہ ۔ (790 عثمانی خلافت کا خاتمہ اور فلسطین کے محاذ پر پسپائی جیسے حادثات جن کو نادان لوگ کمال اتاترک اور یاسر عرفات کے خانے میں ڈالے ہوئے ہیں ، وہ حقیقتہً انور پاشا اور محمد علی جیسے لیڈروں کے حصہ میں جاتا ہے جن کے پاس جذبات کا سرمایہ تو ضرورت سے زیادہ تھا مگر بصیرت کا سرمایہ ضرورت سے بہت کم۔

دوسری عالمی جنگ میں جرمنی کی جذباتی قیادت کے نتیجہ میں دوبارہ جرمنی کو شکست ہوئی ۔ فاتح قوموں (برطانیہ ، امریکہ ، روس) نے جرمنی کو دو ٹکڑوں میں بانٹ دیا۔ ایک کو ایسٹ جرمنی کہا گیا اور دوسرے کو ویسٹ جرمنی ۔ یہ تقسیم یہاں تک پہنچی کہ دونوں حصوں کے درمیان ۱۹۶۱ میں عظیم برلن وال کھڑی کر دی گئی ۔ مگر جیسے ہی سوویت یونین کمزور پڑا خود جرمنوں نے نومبر ۱۹۸۹ میں اس دیوار کو توڑ کر گرا دیا اور دونوں حصے مل کر دوبارہ ایک ملک بن گئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues

Printed page