مغربی یورپ میں پھیل گیا (صفحہ ۹۰
الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۹۳
ایک بار میں انے پاکستان کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے کہا کہ اسی طرح انڈیا اور پاکستان کو بھی دوبارہ مل جانا چاہیے۔ ۔ موجودہ مصنوعی حد بندی کو اگر ختم کر دیا جائے تو اس میں دونوں کو فائدہ ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ جرمنی میں تو دونوں حصوں کے لوگ عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے تھے ۔ دونوں مذہبی اعتبار سے بھائی بھائی تھے ۔ مگر یہاں کا معاملہ یہ ہے کہ دونوں کا مذہب الگ الگ ہے ۔ مزید یہ کہ ہندو فرقہ اکثریت میں ہے ۔ اگر ایسا غیر مساوی اتحاد کیا گیا تو ہندو اپنی اکثریت کے زور پر ہم کو نگل جائے گا ۔ میں نے کہا کہ یہ ایک لغو بات ہے۔ یہ اسلام کی نظریاتی طاقت سے بے خبری کا نتیجہ ہے۔ خود پاکستان کی تاریخ اس اندیشہ کی تردید کے لیے کافی ہے ۔ پاکستان کا علاقہ ہمیشہ سے مسلم علاقہ نہیں تھا ۔ آج وہاں ایک سو ملین سے زیادہ مسلمان پائے جاتے ہیں ۔ جب کہ ہندوؤں کی تعداد مشکل صرف ۱۰ لاکھ ہے ۔ مگر شروع میں جب مسلمان اس علاقہ میں آئے تو وہاں آبادی کا تناسب اس کے بالکل برعکس تھا۔ پھر ماضی کے اس تجربہ کے باوجود مستقبل کے لیے آپ لوگ اس قدر خوف اور مایوسی میں کیوں مبتلا ہیں ۔ آپ لوگ کیسے مسلمان ہیں کہ آپ کی نگاہ ہندو کی عددی برتری پر تو ہے مگر آپ کی نگاہ اسلام کی نظریاتی برتری پر نہیں ۔
جرمنی میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً چار فی صد ہے۔ یہاں تقریباً چالیس اسلامی تنظیمیں ہیں۔ پہلی عالمی جنگ میں ترکی جرمنوں کے ساتھ تھا۔ اس طرح جنگ کے دوران فوجی خدمت کے تحت ترکی اور یوگوسلاویہ کے حامی مسلمان جرمنی پہنچے ۔ انھوں نے یہاں پہلی مسجد بنائی ۔ اب یہاں کے تقریباً ہر شہر میں بڑی تعداد میں مسجدیں اور اسلامی مراکز ہیں ۔ ان کے ساتھ تعلیمی ادارے بھی قائم ہیں۔ ان اداروں میں دس ہزار سے زیادہ مسلم بچے قرآن اور دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ جرمنی کے ایک شہر ہائیڈل برگ میں ۱۹۹۱ میں ایک بڑی اسلامی مؤتمر ہوئی۔ اس کا شعار تھا: الا ن نصر الله قریب۔ ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس شعار میں قومیت کی بو محسوس ہوتی ہے ۔ یہ گویا قومی مقصد کے لیے قرآن کا استعمال ہے ۔ اس کے بجائے زیادہ بہتر یہ تھا کہ کسی دعوتی آیت کو شعار بنایا جائے۔ راقم الحروف نے تقریباً چالیس سال پہلے اعظم گڑھ کی نمائش میں ایک اسلامی اسٹال لگایا تھا ۔ اس میں عمودی (vertical) انداز میں ایک بہت اونچا بورڈ نصب کیا تھا جس پر یہ آیت مع ترجمہ لکھی ہوئی تھی : واللہ يدعو الى دار السلام ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues