مغربی یورپ میں پھیل گیا (صفحہ ۹۰
الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۹۴
۲۲ اکتوبر سن ۱۹۴۱ کو بون (جرمنی) میں سبھاش چندر بوس پر ایک سیمینار ہوا۔ اس کو یہاں کے ہندوستانی سفارت خانہ نے اسپانسر کیا تھا۔ سبھاش چندر بوس ۳۴۔ ۱۹۳۹ میں جرمنی میں رہے تھے۔ ان کے جرمنی آنے کا مقصد یہ تھا کہ برٹش راج ختم کرنے کے لیے جرمنی سے مدد حاصل کی جائے۔ اس وقت جرمنی میں نازی پارٹی کی حکومت تھی۔
لوئی فشر نے اپنی کتاب لائف آف مہاتما گاندھی میں لکھا ہے کہ سبھاش چندر بوس ایک طوفانی آدمی تھے جن کا کہنا تھا کہ مجھ کو خون دو، اور میں تم سے آزادی کا وعدہ کرتا ہوں۔ اس نعرہ کی وجہ سے ان کو بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی (صفحہ ۲۵۶)
سبھاش چندر بوس (اور جواہر لال نہرو) اس زمانہ میں نوجوانوں کے مقبول رہنما بنے ہوئے تھے ۔ وہ دونوں فوراً آزادی چاہتے تھے اور اس کے لیے باقاعدہ لڑائی چھیڑنے کے لیے تیار تھے۔ دونوں مہاتما گاندھی کے مصالحانہ رویہ پر نہایت سخت احتجاج کر رہے تھے (صفحہ ۲۶۱) ان کے اثر سے گاندھی جی کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ ۳۱ دسمبر ۱۹۲۹ تک انڈیا کو آزاد کر دیا جائے ، ورنہ میں یک طرفہ طور پر آزادی کا اعلان کر دوں گا اور اپنی تمام کشتیاں جلا ڈالوں گا (صفحہ ۲۵۷)
سبھاش چندر بوس مہاتما گاندھی کے سخت مخالف تھے (۲۶۹) گاندھی جی کا نظریہ پر امن جدوجہد کا تھا، جب کہ سبھاش چندر بوس کھلے طور پر تشدد کی بات کرتے تھے اور برطانیہ کے خلاف مسلح بغاو ت (armed revolt) کے وکیل تھے (۳۴۲) لوئی فشر نے ۲۵ جون ۱۹۴۲ کو نئی دہلی میں گاندھی جی سے ملاقات کی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے گاندھی جی سے کہا تھا کہ سبھاش چندر بوس ۱۹۴۱ میں جرمنی گئے ۔ اگر ان کا خیال تھا کہ وہ جرمنی سے مدد لے کر انڈیا کو بچا سکتے ہیں تو وہ ایک بیوقوف آدمی تھے اور سیاسی لیڈر بے وقوفی کا تحمل نہیں کر سکتا :
Bose went to Germany. If he believed that India would be saved by Germany, he was stupid, and statemen cannot afford to be stupid. (p. 442)
نیتاجی سبھاش چندر بوس نے انڈین نیشنل آرمی کے نام سے ایک آزاد فوج بنائی تھی ۔ اس کے ایک کیپٹن ڈاکٹر ر تن چند (سری گنگا نگر) تھے ۔ انھوں نے اپنی یادداشت شائع کی ہے جس کا عنوان ہے : ایک شام نیناجی کے ساتھ ۔ اس میں وہ ۲۰ دسمبر ۱۹۴۳ کی ایک میٹنگ کا حال بیان
‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues