Al-Risala · September 1999 · page 6

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۶

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۶

مسلم ملک میں کثرت سے مسجدیں ڈھائی گئی ہیں۔ مگر ان مسجدوں میں سے کسی مسجد کا ڈھایا جانا کسی خطر ناک صورت حال کا سبب نہیں بنا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان مسجدوں کے نام پر مسجد والوں اور ڈھانے والوں کے درمیان ایسی تحریکیں نہیں چلائی گئیں جو اس معاملہ کو دونوں فریق کے لئے وقار کا مسئلہ بنا دیں۔

بابری مسجد کو جس چیز نے ایک خطر ناک مسئلہ بنایا وہ خود بابری مسجد کی انفرادی نوعیت نہیں تھی۔ بلکہ بابری مسجد کے نام پر چلائی جانے والی تحریک کی انفرادی نوعیت تھی۔ اس انداز کی جذباتی تحریک جس مسجد یا غیر مسجد کے لئے بھی چلائی جائے، وہ یقیناً اسی قسم کا منفی نتیجہ پیدا کرے گی۔

۱۹۱۳ء میں اس وقت کی انگریز حکومت نے کانپور کی ایک مسجد کے صرف غسل خانہ کو سڑک کی توسیع کے لئے ڈھایا تھا۔ اس کے نام پر اس زمانہ کے لیڈروں نے زبردست تحریک اٹھادی۔ اس کے پیچھے مسجد کی حمایت سے زیادہ انگریز کی مخالفت کا جذبہ تھا۔ اس زمانہ کے مسلم لیڈروں کی جذباتی تقریروں نے مسلمانوں کو اس قدر بھڑکایا کہ وہ انگریز انتظامیہ سے لڑگئے۔ اس کے بعد انگریزی پولیس نے گولی چلائی جس میں بہت سے مسلمان ہلاک ہو گئے۔ مولانا شبلی نعمانی نے اس واقعہ پر ایک جذباتی نظم لکھی جو اس زمانہ میں بہت مقبول ہوئی۔ اس نظم میں لاشوں کے منظر کی تصویر کشی کرتے ہوئے آخر میں یہ کہا گیا تھا کہ :

پوچھا جو میں نے کون ہو تم آئی یہ صدا ہم کشتگان معرکہ کانپور ہیں یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ اکثر عرب ملکوں میں سڑک کی توسیع کے لئے نہ صرف غسل خانہ بلکہ پوری کی پوری مسجدیں ڈھادی گئیں۔ مگر وہاں مسلمانوں کی لاشوں کا یہ درد ناک منظر کبھی دکھائی نہیں دیا۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ وہاں اس قسم کے جذباتی لیڈر موجود نہ تھے جو مسلمانوں کو اشتعال دلا کر ان کو انتظامیہ سے ٹکرائیں۔ اس کے نتیجہ میں پولیس گولی چلائے اور مسلمانوں کی خونی لاشیں زمیں پر دکھائی دینے لگیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues

Printed page