Al-Risala · September 1999 · page 7

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۷

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۷

آج بر صغیر ہند میں ہر سوچنے والے انسان کے سامنے ایک ہی سوال ہے۔ وہ یہ کہ پچھلے تقریباً سو سال کے درمیان یہاں بہت سی بڑی بڑی تحریکیں چلائی گئیں اور بے شمار قربانیاں دی گئیں مگر نتیجہ صفر رہا۔

ہماری تمام کوششیں اور قربانیاں عملارایگاں ہو کر رہ گئیں۔ کچھ نئی چیزوں کا حوالہ دے کر کہا جاتا ہے کہ آزادی کے بعد انڈیا نے یہ اور یہ ترقیاں کی ہیں۔ مگر یہ حوالے درست نہیں ہیں۔ کیونکہ یہ تمام جدید چیزیں زمانہ کی پیداوار ہیں۔ وہ صنعتی انفجار (industrial explosion) کا نتیجہ ہیں۔ وہ سیاسی آزادی یا ملکی حکومت کی دین نہیں۔ ہندوستان میں اگر انگریزوں کی حکومت باقی رہتی تب بھی یہ نئی ترقیاں ہمیں اسی طرح حاصل ہو تیں جیسے کہ وہ آج حاصل ہیں۔ اس کی ایک مثال ملک میں جدید کمیونی کیشن (مثلاً ریلوے) کا نظام ہے جو زیادہ تر انگریزوں ہی کے زمانے میں قائم ہوا۔

اس المیہ کا سبب اصلاً صرف ایک ہے۔ پختگی کی عمر کو پہنچنے کے بعد میری سمجھ میں یہ بات آئی کہ بر صغیر ہند میں ہندؤوں اور مسلمانوں کے درمیان جو لیڈر اٹھے وہ تقریباً سب کے سب ایک ہی غلطی کا شکار ہوئے۔ اس غلطی نے ان کی ہمالیائی کوششوں کو بے نتیجہ بنا دیا۔ یہ ترجیحات (priorities) کا غلط تعین ہے۔

۱۹۴۷ سے پہلے کے ہندوستان میں مہاتما گاندھی نے سیاسی آزادی کو اپنی پہلی ترجیح بنایا۔ حالانکہ زیادہ صحیح یہ تھا کہ وہ تعلیم کو اپنی پہلی ترجیح بنائیں۔ آزادی کے بعد پنڈت جواہر لال نہرو نے سوسلشٹ اکانومی (زیادہ صحیح لفظوں میں سرکاری اکانومی) قائم کرنے کو اپنی پہلی ترجیح بنایا۔ حالانکہ ان کے لئے صحیح یہ تھا کہ وہ ملک میں انفراسٹکچر (infrastructure) وجود میں لانے کو اپنی پہلی ترجیح بنائیں۔ اٹل بہاری باجپئی نے ایٹم بم بنانے کو اپنی پہلی ترجیح قرار دیا۔ حالانکہ ان کے لئے صحیح یہ تھا کہ وہ سرکاری بھر شٹا چار ختم کرنے کو اپنی پہلی ترجیح بنائیں۔ یہی معاملہ سرحد کے دوسری طرف پاکستان میں ہوا۔ مسٹر محمد علی جناح نے دو قومی دنیا

‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues

Printed page