Al-Risala · September 1999 · page 8

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۸

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۸

وجود میں لانے کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔ حالانکہ ان کے لئے صحیح یہ تھا کہ وہ ایک قومی دنیا وجود میں لانے کو اپنی اولین ترجیح بنائیں ۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اسلامائزیشن آف اسٹیٹ کو اپنی پہلی ترجیح بنایا۔ حالانکہ ان کے لئے صحیح یہ تھا کہ وہ اسلامائزیشن آف مین کو اپنی پہلی ترجیح بنائیں ۔ محمد نواز شریف کو چاہئے تھا کہ وہ اقتصادی خود کفالتی کو پاکستان کی پہلی ترجیح بنائیں جو کہ تقریباً پچاس بلین ڈالر کا مقروض ہو چکا ہے۔ مگر انھوں نے شاہین بم اور غوری مزائل بنانے کو اپنی پہلی ترجیح قرار دیا۔ وغیرہ۔

صحیح ترجیح اختیار کرنے والی قوم وقت پر اپنی منزل پر پہنچتی ہے۔ اور غلط ترجیح اختیار کرنے والی قوم کہیں بھی نہیں پہنچتی خواہ بظاہر وہ کتنی ہی زیادہ لمبی مدت تک سرگرمی دکھاتی رہے۔ بد قسمتی سے یہی دوسری صورت انڈیا اور پاکستان کے حصہ میں آئی ہے۔

آزادی سے پہلے غالباً ۱۹۴۳ء میں میں لاہور گیا تھا۔ اس وقت شاہ گنج (جون پور) سے لاہور تک براہ راست ٹرین جاتی تھی۔ چنانچہ میں اپنے قریبی اسٹیشن شاہ گنج میں ٹرین پر بیٹھا اور سفر کر کے لاہور اسٹیشن پر اتر گیا۔ اس وقت وہاں میرا کوئی جاننے والا نہ تھا ۔ پہلی رات میں نے ریلوے اسٹیشن سے قریب ایک مسجد میں گزاری۔ اس کے بعد دن کو میں شہر دیکھنے کے لئے نکلا۔ میں بغیر کسی منصوبہ کے لاہور کی سڑکوں پر چل رہا تھا۔ اتفاقی طور پر ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ان کا پورا نام مجھے یاد نہیں۔ البتہ یہ یاد ہے کہ لوگ انہیں قریشی صاحب کہا کرتے تھے۔ وہ مجھ پر مہربان ہو گئے اور مجھے اپنے گھر لے گئے جو صرف ایک کمرہ پر مشتمل تھا۔ میں تقریباً دو ہفتہ ان کے ساتھ رہا۔ انھوں نے مجھ کو جن لوگوں سے ملایا ان میں سے ایک لاہور کے ہندو تاجر تھے۔ لاہور کے مال روڈ پر ان کی ایک بڑی دوکان تھی جس کے اوپر جلی حروف میں انگریزی میں لکھا ہوا تھا : بی لیلارام اینڈ سنز ۔ قریشی صاحب کے اس ہندو تاجر سے بہت اچھے تعلقات تھے وہ کئی بار مجھ کو وہاں لے گئے۔ اس ہندو تاجر نے میرے ساتھ نہایت عزت اور محبت کا معاملہ کیا۔ اس وقت لاہور میں بہت سے ہندو رہتے تھے۔ ان ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اس وقت

‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues

Printed page