الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۹
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۹
نہایت خوشگوار تعلقات تھے۔ یہی حال اس پورے خطہ کا تھا جس کو اب پاکستان کہا جاتا ہے۔ یہ آزادی سے پہلے کی بات ہے۔ اب آزادی کے بعد اسی خطہ آرضی میں کیا حالات ہیں۔ اس کا ایک نمونہ یہ ہے کہ یکم جون ۱۹۹۸ کو میں نے ریڈیو پاکستان پر پاکستانی وزیراعظم مسٹر محمد نواز شریف کی تقریر سنی۔ وہ پاکستانی عوام کو خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ جس دن (۲۸ مئی ۱۹۹۸) ہم اپنا ایٹمی دھماکہ کرنے والے تھے، اس سے پہلے کی رات کو میں بالکل نہیں سویا۔ اس لئے کہ ہر وقت یہ اندیشہ تھا کہ دشمن کہیں ہمارے اوپر حملہ نہ کر دے۔
آزادی سے پہلے جب میں نے مذکورہ سفر کیا تواتر پر دلیس سے لے کر پنجاب تک ہر جگہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان برادرانہ ماحول کا منظر تھا۔ اس وقت دونوں میں سے کوئی بھی "دشمن" کا لفظ نہیں بولتا تھا۔ مگر آج سرحد کے دونوں طرف اس لفظ کا استعمال عام ہو چکا ہے۔ اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس فرق کا اصل سبب میرے علم کے مطابق زرد صحافت اور زرد قیادت ہے۔ جس نے مصنوعی طور پر دوستی کو دشمنی میں بدل دیا ہے۔
زرد صحافت اور زرد قیادت کا طریقہ کیا ہے۔ یہ طریقہ ایک لفظ میں منتخب رپورٹنگ (selective reporting) یعنی ایک ہزار میں سے ۹۹۹ اچھی باتوں کو چھوڑ دینا، اور صرف ایک بری بات کو مزید اضافہ کے ساتھ کثرت سے بیان کرنا۔ یہی پچھلے برسوں میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے ساتھ پیش آیا ہے۔ دونوں طرف کے کچھ لکھنے اور بولنے والے اسی اسلوب کو اختیار کرکے دونوں گروہوں کو غیر فطری طور پر بھڑکاتے رہے۔ یہاں تک کہ دونوں کے درمیان فطرت کا قائم کردہ معتدل تعلق ٹوٹ گیا اور دونوں کے درمیان غیر معتدل تعلق قائم ہو گیا۔ زرد صحافت اور زرد قیادت کے معاملہ کو سمجھنے کے لئے دونوں طرف کی ایک ایک مثال یہاں درج کی جاتی ہے۔
میرے علم کے مطابق، پچھلے تقریباً ۶۰ سال سے ایک بات مسلمانوں کے درمیان بار بار دہرائی جاتی رہی ہے۔ وہ یہ کہ ہندوؤں کا یہ منصوبہ ہے کہ آزادی کے بعد جب اکثریتی فرقہ ہونے کی حیثیت سے انھیں ملک میں اقتدار حاصل ہو تو وہ ہندوستان کو دوسرا اسپین بنانے کی کوشش
‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues