الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۰
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۰
کریں۔ یعنی اس ملک سے مسلمانوں کا خاتمہ کر دیں۔ یہ بات جمعیۃ علمائے ہند کے مولانا محمد میاں (۱۹۰۳-۱۹۷۵) سے لے کر ندوۃ العلماء کے مولانا علی میاں تک، لمبے عرصہ سے بار بار دہراتے رہے ہیں۔ مگر ان حضرات میں سے کسی نے کبھی اس کا کوئی ماخذ نہیں بتایا۔ یہ صرف ایک سنی سنائی بات ہے جس کو ہمارے علماء اور غیر علماء بلا تحقیق برابر دہراتے رہتے ہیں۔ اس نے مسلمانوں کے اندر برادران وطن کی طرف سے ایک غیر ضروری قسم کا خوف پیدا کر دیا۔ ان کے اندر وہ معتدل مزاج باقی نہ رہا جو کسی ملک میں مستحکم ترقی حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے۔ ”دوسرے اسپین“ کا افسانہ ہر اعتبار سے بے بنیاد ہے۔ نہ اس کا کوئی واقعی ثبوت موجود ہے کہ ہندوؤں کی کوئی تنظیم اس مقصد کے لئے کام کر رہی ہے۔ اور اگر بالفرض ایسے کچھ سر پھیرے ہندو ماضی میں رہے ہوں یا آج کہیں موجود ہوں تب بھی اس قسم کا تخریبی منصوبہ بلا شبہ خدا کی اس دنیا میں نا قابل عمل ہے۔ ایسی حالت میں ہمارا کام اس کو نظر انداز کرنا ہے نہ کہ اس کو ایک خطرہ بتا کر مسلمانوں کو اس سے ڈرانا (اس کی تفصیل راقم الحروف کی کتاب ہندستانی مسلمان کے باب ”بے بنیاد خوف“ میں دیکھی جاسکتی ہے)
زرد صحافت اور زرد قیادت کا یہی معاملہ خود ہندوؤں کے درمیان بھی پیش آیا۔ لکھنے اور بولنے والے ہندوؤں کے ایک طبقہ نے عجیب و غریب طور پر ہندوؤں میں یہ افواہ پھیلائی کہ مسلمانوں کے لئے اپنے مذہب کے رو سے چار شادیاں کرنا ضروری ہے۔ چنانچہ ہر مسلمان چار شادیاں کرتا ہے، جب کہ ہندو صرف ایک شادی کرتا ہے۔ اس طرح ایک مسلمان ایک ہندو کے مقابلہ میں چوگنا زیادہ بچے پیدا کر رہا ہے۔ گویا کہ ہندوؤں کی آبادی ۱۔ ۲۔ ۳۔ ۴ کی رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ جب کہ مسلمانوں کی آبادی ۱۔ ۲۔ ۴۔ ۸۔ ۱۶ کی رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ اس طرح مسلمان بہت جلد تعداد میں ہندوؤں سے زیادہ ہو جائیں گے۔
ایسی حالت میں ضروری ہے کہ مسلمانوں کے اضافہ آبادی کو روکنے کیلئے سخت تدبیر اختیار کی جائے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی جیسی انتہا پسند جماعت کو سیاسی اقتدار تک پہنچانے میں اس قسم کے فرضی خطرہ کا بہت بڑا دخل ہے۔ ہندوؤں کو محسوس ہوا کہ کانگریس جیسی ”نرم“ پارٹی مسلم
‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues