Prima facie it stands rejected.
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۱
نسل کی حد بندی نہیں کر سکتی۔ اس لئے ضروری ہے کہ ایک ’’سخت‘‘ پارٹی کو مرکزی اقتدار دیا جائے، ورنہ ہندو پچاس برس بعد خود اپنے ہی ملک میں اقلیت بن کر رہ جائیں گے۔ اس بے بنیاد افواہ کی مدلل تردید میں نے اپنے مضامین میں کی ہے۔ اس کے علاوہ خود ہندوؤں کے جلسہ میں بھی ایک سے زیادہ بار اس کی تردید کر چکا ہوں (ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب یکساں سول کوڈ) ۳ فروری ۱۹۹۷ء کو نئی دہلی کے کانسٹٹی ٹیوشن کلب میں ایک جلسہ تھا۔ اس میں دہلی کے آرایس ایس گروپ کے لوگ بڑی تعداد میں شریک تھے۔ یہاں مجھے تقریر کرنے کا موقع ملا۔ میں نے جو باتیں کہی ہیں ان میں چار شادی کا یہ افسانہ بھی تھا۔ میں نے کہا کہ قرآن وحدیث میں کہیں بھی یہ حکم نہیں ہے کہ ہر مسلمان چار شادی کرے ۔ تاہم اس سے قطع نظر عقل عام ہی یہ سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ ایسا ہونا عملی طور پر ممکن نہیں۔ یہ بات اتنی زیادہ بے بنیاد ہے کہ وہ بظاہر ہی قابلِ رد ہے :
Prima facie it stands rejected.
میں نے کہا کہ بالفرض اگر ہر مسلمان چارشادیاں کرے تو یہ صرف اس وقت ممکن ہو گا جب کہ مسلم سماج میں عورتوں کی تعداد مردوں کے مقابلہ میں چار گنا زیادہ ہو۔ یعنی اگر ایک کرور مرد ہوں تو چار کرور عورتیں۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ نیچر ہمیشہ عورت اور مرد کی تعداد کے درمیان ایک توازن (equilibrium) برقرار رکھتی ہے۔ چنانچہ ہر سماج میں عورت اور مرد کی تعداد ہمیشہ تقریباً یکساں رہتی ہے۔ حتی کہ اگر جنگ یا کسی بڑے حادثہ کی وجہ سے وقتی طور پر یہ توازن ٹوٹ جائے تو نیچر بہت جلد اس کے مطابق افراد پیدا کر کے اس توازن کو دوبارہ قائم کر دیتی ہے۔
یہی تمام انسانی معاشروں کا حال ہے۔ اور یہی مسلم معاشرے کا حال بھی۔ ایسی حالت میں یہ بات سرے سے ممکن ہی نہیں کہ ہر مسلمان چار عورتوں سے شادیاں کرے۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی تھی کہ مسلمانوں کے پاس کوئی عورت ساز فیکٹری ہو جس میں وہ اپنی مطلوب تعداد کے مطابق عورتیں بنالیا کرتے ہوں۔ مگر اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں کہ مسلمانوں کے پاس ایسی کوئی
‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues