Prima facie it stands rejected.
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۲
عورت ساز فیکٹری موجود ہے۔
پھر ہر مسلمان اگر چار شادی کرے گا تو کس طرح کرے گا۔ یہ فاضل عورتیں آخر کہاں سے لائی جائیں گی۔
اس قسم کی افواہی باتیں جو ہند و اور مسلمان دونوں کے درمیان پھیلائی گئیں ۔ انھوں نے اس فطری تعلق کو توڑ دیا جو دونوں کے درمیان سیکڑوں سال سے قائم تھا۔ اس کا ایک نتیجہ ملک کے بٹوارہ کی صورت میں ظاہر ہوا۔ تاہم بٹوارہ کے بعد اگر افواہوں کا یہ کارخانہ بند ہو جاتا تب بھی اس میں کوئی حرج نہیں تھا۔ ایک عارضی وقفہ کے بعد دوبارہ فطرت اپنے آپ مطلوب اعتدال کو دونوں کے درمیان قائم کر دیتی۔ مگر بد قسمتی سے ایسا نہ ہو سکا بلکہ افواہوں کا یہ کارخانہ مزید اضافہ کے ساتھ جاری رہا۔ یہاں تک کہ اب سرحد کے دونوں طرف اس بات پر فخر کیا جا رہا ہے کہ ہم اب ایٹمی طاقت بن چکے ہیں۔ اب ہم دشمن کو اس طرح مٹا سکتے ہیں کہ اس کا کوئی وجود ہی زمین پر باقی نہ رہے۔
یوپی کے ضلع اعظم گڑھ میں میرے گاؤں سے تقریباً ۳ کلو میٹر کے فاصلہ پر یسین پور تھا۔ یہاں ایک وسیع زرعی فارم کے اندر یورپی طرز کی ایک لال عمارت تھی جس کو ”صاحب کا بنگلہ“ کہا جاتا تھا۔ یہاں ایک انگریز مسٹر لاری رہا کرتا تھا جو غالباً پہلی عالمی جنگ کے بعد یہاں آکر آباد ہوا تھا۔ ۱۹۱۷ کے انقلاب کے بعد وہ اپنے وطن انگلینڈ واپس چلا گیا۔ انگریزی حکومت نے یہاں اس کو ایک بڑی زمین دی تھی۔ وہ یہاں رہتا تھا اور زمین پر کاشت کرتا تھا۔ وہاں سے گزرتے ہوئے میں نے کئی بار اس بنگلہ کو دیکھا تھا۔ اب نئے مالکوں نے اس کو توڑ کر وہاں کھیت بنا دیا ہے۔
اس وقت یہاں سڑک نہیں تھی۔ مسٹر لاری گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے بنگلہ سے ریلوے اسٹیشن پھریا جایا کرتا تھا۔ یہ ریلوے لائن اس علاقہ میں ۱۹۰۱ میں بچھائی گئی۔ اس کا یہ راستہ ہمارے گھر کے سامنے سے گزرتا تھا۔ ہمارے گھر والے اس وقت علاقہ کے بڑے زمیندار تھے اور
‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues