Prima facie it stands rejected.
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۳
اسی کے ساتھ آزادی کی تحریک سے متاثر تھے۔ چنانچہ یہ بات ان کو اپنے وقار کے خلاف معلوم ہوئی کہ ایک انگریز گھوڑے پر سوار ہو کر ان کے گھر کے سامنے سے گزرے۔ ہمارے گھر والوں نے اس کو منع کیا۔ جب وہ نہیں مانا تو ایک روز اس کے گھوڑے کو روک کر اس کی پٹائی کی۔ تاہم اس نے کوئی انتقامی کاروائی نہیں کی۔ اس نے صرف یہ کیا کہ آئندہ کے لئے اس نے اپنا اسٹیشن کا راستہ بدل دیا۔ اب وہ نظام آباد کے راستہ سے ریلوے اسٹیشن جانے لگا۔ اگرچہ یہ اس کے لئے ایک لمبا راستہ تھا۔
نوجوانی کی عمر میں میں اس پر فخر کرتا تھا کہ میرے خاندان والوں نے مسٹر لاری کو گھوڑے سے اتار کر مارا۔ مگر اب میں سوچتا ہوں کہ یہ بات نہ صرف غیر انسانی تھی بلکہ غیر دانشمندانہ بھی تھی۔
مسٹر لاری ایک ترقی یافتہ قوم کا فرد تھا۔ اس کے مکان کا طرز تعمیر، اس کی زراعت کا اصول، اس کے رہن سہن کا انداز، حتی کہ اس کے رد عمل کا طریقہ، ہر چیز میں لوگوں کیلئے نئی باتیں تھیں ۔ جس سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا تھا۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس پورے علاقہ میں اس وقت غالباً وہ واحد شخص تھا جو انگریزی داں تھا۔ ہمارے خاندان کے لوگوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ اس انگریزی سے انگریزی زبان سیکھی جائے جو زمانہ کے لحاظ سے گویا ترقیاتی دور میں داخلہ کا دروازہ تھا۔
اس کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب انگریزوں کے خلاف وہ نفرت تھی جو اس زمانہ کے ہندو اور مسلم دونوں لیڈروں نے پورے ملک میں پھیلا رکھی تھی۔ اس زمانہ کے ہندو اور مسلمان دونوں کے لئے انگریز کا لفظ صرف نفرت کی ایک علامت بنا ہوا تھا۔ اس نفرت کے جذبہ کو تیز کرنے کے لئے اس زمانہ کے لیڈر نئی نئی تحریکیں چلاتے رہتے تھے۔ مثال کے طور پر انگلینڈ کے کپڑوں کو جلانا۔ چنانچہ اس زمانہ میں انگلینڈ کے کپڑے خود ہمارے گاؤں میں بھی گھروں سے لے کر جلائے گئے۔ بد قسمتی سے بر صغیر ہند میں پچھلے سو سال کے اندر جتنی بڑی بڑی تحریکیں چلائی گئیں وہ تقریباً سب کی سب مبنی بر نفرت تحریکیں تھیں۔ شاید ان میں سے کوئی بھی مبنی بر محبت تحریک نہ
‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues