آئند بھون سے کیا غرض اب ہر دل ہے نشیمن جواہر
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۴
تھی ۔ نفرت انسان کا سب سے زیادہ طاقتور جذبہ ہے ۔ نفرت کے جذبات کو بھڑکاکر بہت تھوڑی مدت میں بہت بڑی بڑی تحریکیں چلائی جاسکتی ہیں ۔ مگر اس قسم کی تحریکیں انسانیت کو تباہی کے سوا اور کچھ نہیں دیتیں ۔ نفرت کی بنیاد پر اٹھائی ہوئی تحریک میں لوگ انگریز سے بھی نفرت کرنے لگتے ہیں اور انگریزی سے بھی ۔
اس کے بر عکس اگر محبت کی بنیاد پر تحریک اٹھائی جائے تو لوگ ایک دوسرے سے الگ کرکے دیکھیں گے ۔ وہ انگریز کو سیاسی اعتبار سے غیر مطلوب سمجھتے ہوئے بھی ان سے انگریزی زبان سیکھیں گے اور انگریزی علوم کو حاصل کریں گے ۔ مگر بد قسمتی سے بر صغیر ہند میں محبت پر مبنی کوئی بڑی تحریک اٹھائی نہیں جاسکی ۔ یہی وجہ ہے کہ ہنگامہ خیز تحریکوں کے باوجود ہمارے ملک میں کوئی حقیقی تعمیری کام نہ ہوسکا۔
میں ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوا جس کو آجکل کی اصطلاح میں فریڈم فائٹر کہا جاتا ہے۔ میرے گھر میں رات دن آزادی کا چرچار ہتا تھا۔ ہمارے خاندان کے سر پرست مولانا اقبال احمد سہیل (وفات ۱۹۵۵ء) کٹر کانگریسی تھے۔ ۱۹۴۲ میں میری شادی ہوئی تو انھوں نے سر سے پاؤں تک مجھے کھدر کے کپڑے پہنائے تھے۔ گاندھی اور نہرو نیز حب الوطنی کے بارے میں ان کے تین شعر یہاں نقل کئے جاتے ہیں۔
آئند بھون سے کیا غرض اب ہر دل ہے نشیمن جواہر
غلط ہے یہ کہ فقط ہندوؤں کا لیڈر تھا کہ تھا تمام جہاں بھر کا رہنما گاندھی محبت ہے وطن کی گل زمیں سے ہمیں اب کیا غرض خلد بریں سے اس زمانہ کے دوسرے بہت سے نوجوانوں کی طرح میں بھی آزادی کے سنہرے خواب دیکھا کرتا تھا۔ لوگوں کی باتیں سن کر آزاد ہندوستان کا عجیب و غریب طلسماتی تصور میرے ذہن میں بسا ہوا تھا۔ ۱۵ اگست ۱۹۴۷ کو جب ہندوستان آزاد ہوا، اس وقت میں یوپی کے شہر اعظم گڑھ میں تھا۔ رات کو میں اپنے گھر سے نکل کر شہر کے چوک کی طرف روانہ ہوا۔ چاروں طرف ایک
‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues