Al-Risala · September 1999 · page 15

آئند بھون سے کیا غرض اب ہر دل ہے نشیمن جواہر

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۵

عجیب رومانی ماحول تھا۔ ۱۵ اگست کی اس رات کو جب میں اعظم گڑھ کی سڑک پر چل رہا تھا تو مجھے وہ انوکھا تجربہ ہوا جس کو اب تک میں نے صرف افسانوں میں پڑھا تھا۔ ... خوشی سے میرے پاؤں زمین پر نہیں پڑ رہے تھے۔

اس رات کو میں نے دیکھا کہ پورا شہر (اور اسی طرح پورا ملک ) چراغوں کی روشنی سے جگمگار ہاہے۔ مگر جب صبح ہوئی تو یہ تمام چراغ بجھ چکے تھے اور اس کے بعد وہ پھر کبھی نہیں جلائے گئے۔ اب ۱۵ اگست صرف ایک سرکاری تہوار ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی قومی تہوار۔ کیوں کہ قوم نے سیاسی آزادی سے جو امیدیں وابستہ کی تھیں وہ پوری نہ ہو سکیں۔

یہ احساس صرف میرا احساس نہیں۔ بلکہ یہی ملک کے تمام لوگوں کا احساس ہے۔ اس سے مستثنیٰ صرف وہ تھوڑے سے لوگ ہو سکتے ہیں جنھیں اتفاق سے یہ موقع ملا کہ وہ ملک کی دولت کو لوٹ کر اپنے گھروں اور بینکوں میں بھر لیں۔ جن کا مسئلہ بقول ایک شخص ، انکم نہیں ہے بلکہ انکم ٹیکس ہے۔

نوجوانی کی عمر میں میں آزادی کے مسرت بھرے انتظار میں جی رہا تھا۔ اب جب کہ میری عمر ہجری کلینڈر کے اعتبار سے ۸۰ سال کے قریب پہنچ رہی ہے، میں اس انتظار میں اپنی زندگی کے آخری لمحات گزار رہا ہوں کہ اپنی موت سے پہلے وہ دن دیکھ لوں جب کہ میرا ملک ترقی کی اس منزل میں اپنا قدم رکھ چکا ہو۔ جس کا خواب ۱۹۴۷ سے پہلے ہمارے رہمناؤں نے دیکھا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues

Printed page