آئند بھون سے کیا غرض اب ہر دل ہے نشیمن جواہر
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۶
(LOUIS) بتایا تھا، وہ مجھ کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر ایئر پورٹ سے پولیس اسٹیشن لے گیا۔ اور جب واپسی کے جہاز کا وقت ہوا تو دوبارہ مجھے ایئر پورٹ پر لا کر جہاز کے اندر بٹھا دیا۔ اس نے میرا پاسپورٹ اور میرا ٹکٹ بھی مجھ کو نہیں دیا صرف یہ کہا کہ دورانِ پرواز وہ مجھ کو پائلٹ کے ذریعہ مل جائے گا۔ مسٹر لوئی جس وقت مجھ کو نیویارک ایئر پورٹ سے پولیس آفس کی طرف لے جا رہے تھے، میں نے ان سے کہا کہ مسٹر لوئی، آپ کو شاید یہ اندیشہ ہے کہ میں امریکہ میں رہ جاؤں گا۔ مگر میں ایک اور ڈھنگ کا آدمی ہوں، اگر آپ مجھے امریکہ کا صدر بنا دیں تب بھی میں یہاں رہنے والا نہیں ہوں۔ مجھے اپنے وطن جانا ہے۔ اور وہاں اپنے اس تعمیری مشن کو پورا کرنا ہے جس کے لئے میں نے اپنی ساری زندگی وقف کر رکھی ہے۔
۱۹۷۱ء کے نصف اول میں میں نے بذریعہ ٹرین پاکستان کا سفر کیا جب میں بارڈر کے دوسری طرف پہنچا تو میرے قلی نے کہا کہ آپ کو وہ میجر صاحب بلا رہے ہیں۔ اس کے بعد قلی نے مجھے ایک فوجی خیمے کے اندر پہنچادیا۔ وہاں ایک پاکستانی فوجی افسر بیٹھا ہوا تھا۔ اس خیمے میں صرف ہم دو آدمی تھے یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ بنگلہ دیش کی جنگ کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ باوردی فوجی افسر نے مجھ سے کہا کہ انڈیا کے کچھ فوجی راز بتائیے۔ یہ سنتے ہی مجھے غصہ آگیا۔
میں نے کہا میجر صاحب، آپ مجھ سے یہ سمجھ کر بات کیجئے کہ میں انڈیا کا ایک وفادار شہری ہوں (یہ بات میں نے پاکستان کی سرزمین پر ایک فوجی خیمے میں اس وقت کہی جب کہ اگر وہ فوجی افسر مجھے گولی مار دیتا تو شاید میری موت اس طرح واقع ہو جاتی کہ اس کی کوئی خبر بھی نہ بنتی) پھر میں نے کہا کہ اگر انڈیا کے ساتھ آپ کی لڑائی کا انحصار ہمارے جیسے لوگوں سے فوجی راز حاصل کرنے پر ہے تو آپ اپنی لڑائی جیت چکے۔ کیوں کہ موجودہ زمانہ میں جنگی راز اتنا ٹاپ سیکریٹ ہوتا ہے کہ بعض اوقات وزیر دفاع کو بھی اس کی خبر نہیں ہوتی۔ تقریباً آدھ گھنٹہ تک میں اس قسم کی باتیں کرتا رہا۔ اس کے بعد سلام کئے بغیر خیمے کے باہر نکل آیا۔ مذکورہ میجر مکمل خاموشی کے ساتھ میری باتوں کو سنتا رہا۔ جب میں باہر نکلا تو وہ بھی میرے پیچھے پیچھے باہر
‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues