I love Gandhi but I love India more than Gandhi
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۷
آگیا۔ اس نے کہا: مولانا صاحب، ہم کو آپ ہی جیسے لوگوں کی ضرورت ہے۔
میری زندگی کے سیکڑوں واقعات میں سے یہ صرف چند واقعات ہیں جو بتاتے ہیں کہ مجھے اپنے وطن سے کتنا زیادہ لگاؤ ہے۔ جو ہندو مجھے قریب سے جانتے ہیں، مثلاً سوامی اوم پورن سو تنتر (نئی دہلی) یا سوامی چید آنند (رشی کیش) وہ کہتے ہیں کہ تمہارے اندر جو دیش بھکتی ہے اس کی مثال ہم نے مہاتما گاندھی کے بعد کسی اور کے اندر نہیں دیکھی۔ میرے دل کی یہی تڑپ ہے جو مجھ کو ند کورہ قسم کی باتیں کہنے پر مجبور کرتی ہے۔
۲۰ جنوری ۱۹۹۷ کو نئی دہلی میں پائینر ہاؤس میں ایک میٹنگ ہوئی۔ اس میں شہر کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شریک تھے۔ اس میٹنگ کا موضوع تھا: کیا گاندھی آج کے ہندوستان میں کامیاب ہوتے۔ میں نے اس موقع پر ایک لمبی تقریر کی اس سلسلہ میں میں نے کہا کہ گاندھی پچھلے انڈیا میں بھی کامیاب نہیں ہوئے یہاں تک کہ ۱۹۴۷ میں انھیں خود یہ کہنا پڑا کہ: اب میری کون سنے گا۔ پھر گاندھی جب پچھلے انڈیا میں کامیاب نہیں ہوئے تو آج کی انڈیا میں وہ کس طرح کامیاب ہوتے۔ ایک ہندو پروفیسر نے میری بات سن کر کسی قدر برہمی کے ساتھ کہا کہ آپ مہاتما گاندھی پر تنقید کر رہے ہیں یہ سن کر میرا دل تڑپ اٹھا میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میں نے درد بھرے لہجے میں کہا۔
I love Gandhi but I love India more than Gandhi
میری یہ بات سن کر پروفیسر صاحب خاموش ہوگئے۔ اس کے بعد کسی نے بھی میری تنقیدی تقریر کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ میری یہ تقریر مکمل طور پر انگریزی اخبار پائینر (نئی دہلی) کے شمارہ ۲۶ جنوری ۱۹۹۷ میں چھپ چکی ہے۔
انگریزی میگزین سنڈے کے شمارہ ۱۹ تا ۲۵ نومبر ۱۹۹۵ میں مسٹر ارن شوری کا ایک تفصیلی انٹرویو چھپا۔ اس کے انٹرویو ر منی شنکر ایر تھے۔ اس انٹرویو میں مسٹر ارن شوری نے جو باتیں کہیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ ایک اچھے مسلمان (good muslim) کا ایک اچھا انڈین (good Indian) ہونا بہت مشکل ہے۔ میں نے اس انٹرویو کو پڑھنے کے بعد مسٹر ارن شوری کو
‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues