I love Gandhi but I love India more than Gandhi
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۸
ٹیلی فون کیا۔ میں نے کہا: یہ بتائیے کہ میں گڈ مسلم ہوں یا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ کون کہہ سکتا ہے کہ آپ گڈ مسلم نہیں ہیں۔ میں نے کہا کہ پھر سن لیجیے کہ میں ایک گڈ مسلم بھی ہوں اور گڈ انڈین بھی ہوں۔ یہ کہتے ہوئے میری زبان سے نکلا: اگر میں گڈ انڈین نہیں ہوں تو مہاتما گاندھی بھی گڈ انڈین نہیں تھے۔
اس واقعہ کے چند روز بعد ڈاکٹر مہیش چندر شرما (ممبر پارلیمنٹ) میرے دفتر میں ملاقات کے لئے آئے۔ میں نے ان سے مذکورہ گفتگو نقل کی۔ انھوں نے اس کو سن کر کہا: مولانا صاحب، آپ کے گڈ انڈین ہونے کے لئے کسی ارن شوری کے سرٹیفکٹ کی ضرورت نہیں۔ آپ ایسے کسی سرٹیفکٹ کے بغیر ہی گڈ انڈین ہیں۔
میری بعض تنقیدوں کو سن کر ایک تعلیم یافتہ ہندو نے کہا کہ آپ ہمارے قومی لیڈروں کی اتنی سخت آلوچنا کرتے ہیں۔ آخر کس نے آپ کو اس کا ادھیکار دیا ہے۔ میں نے جواب دیا کہ میری دیش بھکتی (حب الوطنی) سے مجھ کو یہ ادھیکار پراپت ہوا ہے۔ یہ سن کر وہ چپ ہو گئے۔ ۱۹۴۷ سے پہلے کسی ہندوستانی کی دیش بھکتی کا ثبوت یہ ہوتا تھا کہ وہ انگریزوں کے خلاف بولتا ہو، یہ بہت ستا معیار تھا۔ کیوں کہ اس زمانہ کے حالات میں کسی آدمی کو انگریز کے خلاف بولنے کا یہ شاندار انعام ملتا تھا کہ وہ اچانک ملک کے اندر ہیرو بن جائے۔ مگر ۱۹۴۷ کے بعد قومی تعمیر کا مسئلہ تھا۔ اور قومی تعمیر میں آدمی کو خود اپنی قوم کے خلاف بولنا پڑتا ہے۔ اس دوسرے معیار پر صرف مہاتما گاندھی ہی پورے اترتے ہیں۔ تقسیم کے بعد پاکستان کو ۵۵ کروڑ روپیہ دینے کا سوال ایک انتہائی نازک اور حساس سوال تھا۔ اس حساس سوال پر مہاتما گاندھی واحد شخص تھے جو نازک قومی جذبات کے خلاف بولے۔ مہاتما گاندھی کے سوانح نگار لوئی فشر کے مطابق، مہاتما گاندھی کو جو گولی ماری گئی وہ اس معاملہ میں ان کے موقف کی قیمت تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ پچھلے پچاس سال کے دوران دیش کے لئے اس قسم کی نازک قربانی کی دوسری مثال صرف وہ ہے جس کی توفیق مجھے اللہ کی خصوصی مدد سے حاصل ہوئی۔ بابری مسجد کا سوال تمام مسلمانوں کے لئے وقار کا سوال تھا۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو جب مشتعل ہندوؤں کی ایک
‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues