I love Gandhi but I love India more than Gandhi
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۹
بھِیٹر نے بابری مسجد کو ڈھا دیا تو تمام مسلمانوں کے اندر غصہ کی آگ بھڑک اُٹھی ۔ جذبات سے بے قابو ہو کر وہ کچھ بھی کرنے کے لئے تیار ہوگئے ۔ یہ ایک انتہائی نازک صورت حال تھی۔ لوگوں کے جذبات اتنے زیادہ بھڑکے ہوئے تھے کہ ملک کے دونوں بڑے فرقوں کے درمیان خونی ٹکراؤ کی حالت پیدا ہوگئی۔ اس وقت اپنی زندگی کا مشکل ترین رسک(risk) لے کر میں لوگوں کے سامنے آیا اور دونوں فرقوں کے سامنے یہ دو نکاتی فارمولا پیش کیا کہ ---- مسلمان ایک مسجد کے سوال پر چپ ہو جائیں، اور ہندو بقیہ مسجدوں کے سوال پر چپ ہو جائیں۔ یہ بات اس وقت کے ماحول میں آگ پر پٹرول ڈالنے کے ہم معنی تھی۔ وقتی طور پر لوگ میری جان کے دشمن ہوگئے قوم کی طرف سے مجھے سخت غضبناکی کا شکار ہونا پڑا مگر دھیرے دھیرے حالات بدلے اور لوگوں نے جان لیا کہ یہی واحد فارمولا تھا جس سے ملک کو ایک عظیم تباہی سے بچانا ممکن ہو سکا۔
میرے وطن اعظم گڑھ میں سب سے پہلی موٹر کار راجہ ہرکھ چند نے منگوائی تھی۔ یہ تقریباً ستر سال پہلے کی بات ہے۔ اس کے بعد شہر کی دوسری کار وہ تھی جو ہمارے خاندان نے خریدی۔ یہ فورڈ کا پرانا ماڈل تھا۔ جس کے اوپر موجودہ تھری ویلر کے مانند کپڑا ہوا کرتا تھا۔ میں اس زمانہ میں اس موٹر کار کو دیکھتا تھا اور اس پر بیٹھتا تھا۔ اس کار کی حیثیت گویا ایک سائنسی واقعہ کی تھی۔ مگر اس نے میرے اندر کسی بھی درجہ میں کوئی سائنٹفک تھنکنگ پیدا نہیں کی۔ یہ کار کیا تھی، وہ امرِیکا کے ہنری فورڈ (وفات ۱۹۴۷) کی سرتاپا سائنسی زندگی کا ایک صنعتی نمونہ تھا۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ ایک سائنسی انسان کی یاد دلاتی تھی۔ اس کے ساتھ وہ فورڈ سے پہلے کے ان انسانوں کی یاد دلاتی تھی جنھوں نے اپنی زندگیاں سائنسی میدان میں وقف کردیں۔ یہاں تک کہ وہ اس قابل ہوئے کہ وہ فطرت کے اس راز کو دریافت کرسکیں کہ جامد مادہ کو کس طرح متحرک مشین میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ مذکورہ کار گویا ان باتوں کا ایک خاموش اعلان تھی۔ مگر میرے ذہن میں کبھی اس قسم کے سوالات نہیں ابھرے اور نہ میں نے کبھی ان
‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues