Al-Risala · September 1999 · page 20

I love Gandhi but I love India more than Gandhi

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۰

کے بارے میں جاننے کی کوئی کوشش کی۔ آج میں سوچتا ہوں کہ مجھ میں اور ہنری فورڈ میں یہ فرق کیوں تھا۔ ہنری فورڈ نے اپنی پوری زندگی سائنس اور ٹکنالوجی کے مطالعہ میں صرف کردی اس نے اپنے رات دن کے تمام لمحات کو انہیں تجربات میں گزار دیا یہاں تک کہ وہ پہلی سب سے بڑی موٹر کمپنی بنانے میں کامیاب ہوا۔ جب کہ میرا یہ حال تھا کہ جزئی طور پر فورڈ کا ہم عصر ہوتے ہوئے میں اس قسم کے شعور تک سے بالکل خالی تھا۔ اس فرق کا سبب دونوں کے ماحول کا فرق ہے۔

ہنری فورڈ ۱۸۶۳ء میں امریکا کے ایک شہر میں پیدا ہوا۔ اس وقت امریکا میں ہر طرف سائنس اور طبیعیاتی علوم کا چرچا تھا۔ اس ماحول میں پرورش پانے والا ہر نوجوان کسی ارادے کے بغیر خود بخود سائنسی باتوں سے مانوس ہو جاتا تھا۔ اس کے اندر اپنے آپ ہی سائنسی واقفیت حاصل کرنے کا شوق پیدا ہو جاتا تھا۔ یہی ماحول ہے جس نے انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول کے زمانہ نے امریکا میں ہزاروں سائنسداں پیدا کئے ۔ مگر میں اپنے وطن اعظم گڑھ میں اس قسم کے ماحول سے مکمل طور پر محروم تھا۔ اس محرومی کی ذمہ داری اس زمانہ کے ان رہنماؤں پر ہے جو اپنی بے شعوری کی بنا پر اس قسم کا ماحول نہ بنا سکے۔ اس زمانہ کے رہنماؤں نے ہمارے معاشرہ کا جو ماحول بنایا وہ کیا تھا ۔ ۔۔ سطحی سیاست، آزادی کے کھوکھلے نعرے، ادب اور شاعری، داستان امیر حمزہ اور الف لیلیٰ جیسی کتابوں کو پڑھنا، فرضی قصے کہانیاں سننا اور سنانا، وغیرہ ۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، تقریباً پورا مسلم معاشرہ ہمارے رہنماؤں کے پیدا کردہ اسی قسم کے ماحول میں جی رہا تھا۔ میرے علم کے مطابق بر صغیر ہند کا کوئی بھی گوشہ ایسا نہیں جو اس زمانہ میں اس عام صورت حال سے مستثنیٰ قرار دیا جا سکتا ہو۔ گھر کے ماحول سے نکل کر جب میں عربی اور دینی تعلیم کے لئے مدرسہ میں پہنچا تو وہاں بھی عین یہی ماحول تھا۔ حتیٰ کہ اس زمانہ میں مسلم رہنماؤں نے جدید تعلیم کے نام سے جو ادارے بنائے وہاں بھی حقیقی معنوں میں سائنسی ماحول کا کوئی وجود نہ تھا۔ پہلی بار جب میں مسلم یونیورسٹی علیگڑھ) گیا اور وہاں "سر سید روم" کو دیکھا تو مجھے یہ دیکھ کر سخت حیرت ہوئی کہ سر سید (۱۸۹۸)

‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues

Printed page