Al-Risala · September 1999 · page 21

I love Gandhi but I love India more than Gandhi

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۱

انیسویں صدی کے نصف آخر میں جب لندن گئے تو وہاں کی سب سے زیادہ قیمتی چیز جو انہوں نے ہندوستان لانے کے قابل سمجھی وہ قدیم و وضع کا ایک سوفہ سٹ تھا۔ وہاں سے وہ نہ کوئی مشین لائے اور نہ کوئی سائنسی کتاب۔

میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ زمانے میں بر صغیر ہند کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے۔ اس زمانہ میں یورپ اور امریکا کے لوگ سائنسی انقلاب لانے میں مصروف تھے۔ مگر جیسا کہ عرض کیا گیا، عین اسی زمانہ میں برصغیر ہند میں اس سے بالکل مختلف چیزوں کے ذہنوں پر چھائی ہوئی تھیں ۔ آزادی کے کھوکھلے نعرے، نثر اور نظم میں خیالی مضمون بندیاں، مذہب کے نام پر سطحی بحثیں، ماضی پر فخر اور حال سے بے خبری، انسانوں سے محبت کرنے کے بجائے ان کو اپنا دشمن بتا کر ان سے نفرت کرنا، حقائق فطرت میں جینے کے بجائے مفروضات اور توہمات میں جینا۔ یہی وہ چیزیں تھیں جو اس زمانہ میں بر صغیر ہند میں عمومی طور پر چھائی ہوئی تھیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں (نیز ہندوؤں) کے تمام مسائل کی جڑان کی یہی مشترک فکری پس ماندگی ہے۔ اسی بات کو جواہر لال نہرو نے اپنے آخری زمانہ میں اس طرح کہا تھا کہ ہمارے دیش میں سب سے زیادہ جس چیز کی کمی ہے وہ سائنٹفک ٹمپر ہے۔ ماضی میں اگر ہمارے یہاں ایسے صاحب بصیرت لیڈر ابھرتے جو لوگوں کہ اندر صحیح سوچ پیدا کرتے تو آج ہم اس کا مثبت نتیجہ پارہے ہوتے ۔ اب بھی اگر کوئی امید کا پہلو ہے تو وہ یہی ہے کہ ہمارے درمیان آج ایسے رہنما بھریں جو دور رس نظر رکھتے ہوں اور سماج کو ایسی بنیاد پر کھڑا کریں جو مستقبل کے اعتبار سے نتیجہ خیز ہو اس کے بغیر نہ پہلے کوئی امید کی جاسکتی تھی اور نہ آئندہ کی جاسکتی ہے۔ ۱۹۴۶ میں یہ بات واضح ہو گئی کہ اب انڈیا کو انگریزوں سے آزاد ہونا ہے۔ لوئی فشر کے بیان کے مطابق، ۵ دسمبر ۱۹۴۶ میں مہاتما گاندھی نے لکھا کہ ۔ اس ملک کے ہند اور مسلمان دونوں کو امن اور میل ملاپ کے ساتھ رہنا ہے ورنہ اس کی کوشش میں میں اپنی جان دے دوں گا: Hindus and Muslmans should learn to live together in peace and amity otheriwse I should die in the attempt .(p.449)

‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues

Printed page