I love Gandhi but I love India more than Gandhi
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۲
یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ بر صغیر ہند کی تقسیم نفرت کی بنیاد پر ہوئی۔ نفرت کی یہ لہر ۱۵ اگست ۱۹۴۷ کو اچانک ختم نہیں ہو سکتی تھی۔ فطری طور پر ایسا ہوا کہ یہ نفرت اس کے بعد بھی سرحد کے دونوں طرف جاری رہی۔ بلکہ مختلف اسباب کے تحت اس میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ یہ بلاشبہ ملک کے مستقبل کی تعمیر کے لئے سب سے بڑا خطرہ تھا۔ دو پڑوسیوں میں اگر نفرت اور عداوت کی فضا ہو تو دونوں میں سے کوئی ایک بھی ترقی نہیں کر سکتا۔ مگر میرے علم کے مطابق پورے بر صغیر میں صرف ایک شخص تھا، یعنی مہاتما گاندھی۔ جو اس حقیقت کو شعوری طور پر جانتا تھا۔ اس نے اس راہ میں اپنی آخری کوششیں بھی صرف کر دیں۔ مگر مشن کی تکمیل سے پہلے آزادی کے جلد ہی بعد ۳۰ جنوری ۱۹۴۸ کو گولی مار کر گاندھی کو ہلاک کر دیا گیا۔ اگلی صبح کو تمام اخباروں نے اس کو اپنی پہلی خبر بنایا۔ امرت بازار پتر کا کی سرخی ان الفاظ میں تھی: Gandhi sacrificed by fanaticism ہندو مسلم اتحاد، اور اسی طرح انڈیا اور پاکستان کے درمیان پر امن تعلقات بلاشبہ اس بر صغیر کی سب سے بڑی ضرورت ہیں۔ اس فضا کو پیدا کئے بغیر بر صغیر میں کوئی ترقی ممکن نہیں ہو سکتی، نہ ایک کے لئے اور نہ دوسرے کے لئے۔
مگر اس رخ پر ابھی تک کوئی مؤثر کوشش نہ کی جاسکی۔ مہاتما گاندھی نے اس کو اپنا آخری مشن بنا کر اپنی پوری زندگی اس کے لئے وقف کرنے کا فیصلہ کیا تھا مگر مشن کے آغاز ہی میں ان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ان کے بعد میرے خیال کے مطابق، کوئی بھی قابل ذکر شخص اس خاص مقصد کے لئے نہ اٹھا، نہ ہندوؤں میں اور نہ مسلمانوں میں۔
ہندوؤں میں پنڈت جواہر لعل نہرو اور مسلمانوں میں مولانا ابوالکلام آزاد۔ اس قابل تھے کہ وہ گاندھی کے اس نا تمام مشن کو پورا کر سکیں۔ مگر ان لوگوں نے اس رخ پر کوئی سنجیدہ کوشش نہ کی۔
اگر پنڈت نہرو پرائم منسٹر نہ بنتے۔ اس کے بجائے وہ گاندھی کے مذکورہ مشن کی تکمیل کے لئے ایک انگریزی میگزین نکالتے۔ اسی طرح مولانا آزاد وزیر تعلیم نہ بنتے اس کے بجائے وہ
‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues