Al-Risala · September 1999 · page 23

I love Gandhi but I love India more than Gandhi

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۳

ہندو مسلم اتحاد کے مقصد کے تحت ایک اردو میگزین جاری کرتے تو یہی دو افراد دس سال کے اندر پورے ملک میں ایک نیا فکری انقلاب لانے کے لئے کافی تھے۔

انسان کے لئے سب سے زیادہ تباہ کن نفسیات انتقام کی نفسیات ہے۔ انتقام کی سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ اس کا کوئی خاتمہ نہیں۔ ہر انتقام کا دوبارہ انتقام لیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ تباہ کن سلسلہ اس وقت تک ختم نہیں ہوتا جب تک کہ خود انتقام لینے والوں کا خاتمہ نہ ہو جائے۔

۱۵ اگست ۱۹۴۷ کو ہندوستان کا بٹوارہ ہوا۔ اس بٹوارہ کے ذمہ دار بلاشبہ ہندوستانی مسلمان تھے۔ ہندوستانی مسلمانوں نے مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا ابو الکلام آزاد جیسے اتحاد پسند قائدین کو رد کر دیا اور مسٹر محمد علی جناح کی قیادت میں ملک کے بٹوارے کا طوفانی مطالبہ کیا۔ ہندو قیادت نے تحریک کے آخری مرحلہ میں اس کو ناگزیر برائی (necessary evil) کے طور پر مان لیا۔ یہ ہندو ذہن کے لئے نہایت سخت صدمہ تھا۔ تاہم یہ عین ممکن تھا کہ فطرت کا خاموش عمل اس کو فراموشی کے خانہ میں ڈال دے۔ مگر پاکستان کی مسلسل حریفانہ پالیسی نے یہ نوبت نہ آنے دی کے ہندو ذہن بٹوارے کے صدمہ کو بھلا دے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہندو قیادت نے بلا اعلان بٹوارہ کا انتقام لینے کا فیصلہ کیا۔ سابق مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں شیخ مجیب الرحمن کی علیحدگی پسند تحریک نے ہندو قیادت کو موقع دیا۔ چنانچہ اس نے شیخ مجیب الرحمن کا ساتھ دے کر ۱۹۷۱ میں پاکستان کے دو ٹکڑے کر دیے۔

ہندو و قائدین اگر دشمند ہوتے تو وہ پیشگی طور پر اس حقیقت کو جان لیتے کہ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کی بہترین صورت یہ ہے کہ وہ خود بنگالیوں کے ہاتھوں بنے۔ مگر اس وقت کے ہندو قائدین کی منفی ذہنیت ان کے لئے اس حقیقت کو سمجھنے میں رکاوٹ بن گئی۔ وہ یہ جاننے سے قاصر رہے کہ بنگلہ دیش کی تحریک میں ان کی شمولیت ان کے لئے ایک بوم رینگ کھیل ثابت ہوگا۔ اور دوبارہ انتقام کا انتقام لیا جائے گا۔ مگر وہ اس حقیقت کو نہ سمجھ سکے یہاں تک کہ انتقام

‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues

Printed page