I love Gandhi but I love India more than Gandhi
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۴
در انتقام کا ایک لامتناہی سلسلہ برصغیر ہند میں جاری ہو گیا۔
میرے بچپن کے زمانہ میں میرے وطن کے قریب مدرسۃ الاصلاح کے میدان میں ایک عمومی جلسہ ہوا اطراف کے مسلمان ہزاروں کی تعداد میں امڈ آئے۔ اس جلسہ کے خصوصی مقرر مولانا محمد علی جوہر (وفات ۱۹۳۱) تھے۔ انہوں نے اپنے مخصوص جوشیلے انداز میں تقریر کی اس وقت لاوڈاسپیکر نہیں ہوتا تھا۔ مگر مولانا محمد علی اتنے گرج دار انداز میں بولتے تھے کہ لاوڈاسپیکر کے بغیر ہی ہزاروں آدمی ان کی بات سن سکتے تھے۔ مولانا محمد علی کی تقریر ختم ہوئی تو ایک بوڑھا مسلمان اٹھا بھیڑ کو چیرتا ہوا وہ اسٹیج کے پاس پہنچا۔ اس نے مولانا محمد علی کی پیٹھ پر اپنا ہاتھ مارتے ہوئے اپنی دیہاتی زبان میں کہا کہ : محمد علی جون تیں کہے کہو نہ کہیں (محمد علی، جو تونے کیا کسی نے نہیں کیا)
خلافت تحریک کے زمانہ میں محمد علی اور شوکت علی کی تقریروں نے پورے ملک میں غلغلہ پیدا کر دیا تھا۔ یہاں تک کہ مولانا شوکت علی نے ایک موقع پر کہا کہ : گاندھی میری جیب میں ہے۔ اس زمانہ میں مولانا محمد علی کے دبدبہ کا یہ عالم تھا کہ کانپور کے محلہ مچھلی بازار کی مسجد کے ساتھ ۱۹۱۳ میں ایک واقعہ پیش آیا۔ اس وقت کی انگریز حکومت نے مسجد کا غسل خانہ سڑک کی توسیع کے لئے توڑ دیا۔ اس پر لیڈروں کی تقریروں نے مسلمانوں کے اندر اتنا جوش پیدا کیا کہ لوگ بغاوت پر آمادہ ہو گئے۔ پولیس نے گولی چلائی جس میں بہت سے مسلمان مارے گئے۔ جب یہ ہنگامہ جاری تھا، مولانا محمد علی ٹرین سے سفر کر کے کانپور پہنچے ریلوے اسٹیشن پر مسلمانوں کی بھیڑ ان کے استقبال کے لئے موجود تھی۔ کہا جاتا ہے کہ یوپی کا انگریز گورنر اس وقت کانپور میں تھا اور کھانے کے میز پر کھانا کھا رہا تھا۔ عین اس وقت اس کو خبر دی گئی کہ مولانا محمد علی کانپور پہنچ گئے ہیں۔ انگریز گورنر نے یہ خبر سنی تو چمچہ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑا۔ مگر سوال یہ ہے کہ مولانا محمد علی کی زلزلہ خیز قیادت نے ہندوستانی مسلمانوں کو کیا دیا۔ قیادت مستقبل کی تعمیر کے لئے ہوتی ہے نہ کہ وقتی دھوم کے لئے۔ مگر میرے علم کے مطابق مولانا محمد علی نے
‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues