Al-Risala · September 1999 · page 25

I love Gandhi but I love India more than Gandhi

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۵

اپنے بعد کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جو مثبت معنوں میں مسلمانوں کے لئے مفید ہو۔ البتہ اپنی پر جوش طبیعت کی بنا پر انھوں نے ایسی باتیں کہیں جو مسلمانوں کے لئے آج تک مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔

خلافت تحریک کے زمانہ میں مہاتما گاندھی بھی ان کے ساتھ ہو گئے تھے۔ اس زمانہ میں ایک بار ایسا ہوا کہ مولانا محمد علی نے دلی کی جامع مسجد میں مسلمانوں کا ایک جلسہ کیا۔ وہ مہاتما گاندھی کو بھی اس جلسہ میں لے گئے۔ مہاتما گاندھی نے وہاں ممبر پر بیٹھ کر تقریر کی۔ یہ واقعہ مسلمانوں کی برہمی کا سبب بن گیا۔ کچھ لوگوں نے اس واقعہ کو لے کر مولانا محمد علی کو بد نام کرنا شروع کر دیا۔ یہ ایک نازک صورت حال تھی۔ مولانا محمد علی نے اس موقع پر اپنا دفاع اس طرح کیا کہ انھوں نے کہا: جہاں تک سیاست کا تعلق ہے، میں مہاتما گاندھی کو اپنا لیڈر سمجھتا ہوں ۔ مگر جہاں تک مذہب کا تعلق ہے تو میرے نزدیک ایک فاسق و فاجر مسلمان بھی مہاتما گاندھی سے اچھا ہے۔

ایک عام آدمی اگر اس طرح کی بات کہے تو وہ نیوز (خبر) نہیں بنتی۔ مگر جب ایک مشہور لیڈر اس قسم کی بات کہے تو وہ نیوز بن کر فوراً ہر طرف پھیل جاتی ہے۔ چنانچہ مولانا محمد علی کی اس بات پر ہندوئوں میں بہت زیادہ چے می گوئیاں ہو ئیں۔ میرے نزدیک مولانا محمد علی کا جواب درست نہ تھا۔ انھوں نے غیر ضروری طور پر بات کو اتنا پیچیدہ بنا دیا۔ وہ کہہ سکتے تھے کہ اگر میں مہاتما گاندھی کو مسجد میں لایا ہوں تو میں نے کوئی غیر اسلامی کام نہیں کیا۔ خود رسول اللہ صلی اللہ کے زمانے میں غیر مسلم مسجد کے اندر آتے تھے اور ایسے بھی واقعات موجود ہیں کہ انھوں نے مسجد کے اندر تقریر کی۔ اور اس کو کوئی برا نہیں مانا۔

اس کے مقابلہ میں مہاتما گاندھی کا انداز دیکھئے۔ اس واقعہ کے بعد غالباً کلکتہ میں کانگریس کا سالانہ اجلاس ہوا۔ وہاں مہاتما گاندھی اور مولانا محمد علی دونوں موجود تھے۔ جب اجلاس شروع ہونے والا تھا تو اچانک ایک سنسنی خیز واقعہ ہوا۔ مہادیو دیسائی اچانک اسٹیج پر آئے۔ انھوں نے بلند آواز سے کہا کہ میں اجلاس کی کارروائی ہونے نہیں دوں گا۔ مولانا محمد علی نے مہاتما گاندھی کی

‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues

Printed page