Al-Risala · September 1999 · page 26

I love Gandhi but I love India more than Gandhi

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۶

توہین کی ہے۔ سب سے پہلے وہ یہاں آکر معافی مانگیں ۔ اس کے بعد ہی جلسہ شروع ہوگا۔ مہادیو دیسائی کے اس پر جوش اعلان کے بعد جلسہ گاہ میں ہر طرف سناٹا چھا گیا۔ لوگوں کی نظریں مولانا محمد علی پر پڑنے لگیں مگر مولانا محمد علی اس کے لئے تیار نہیں ہوئے کہ وہ کھڑے ہو کر سرے عام معافی مانگیں۔ غالباً انہیں ڈر تھا کہ اگر انھوں نے ایسا کیا تو جلسہ گاہ سے نکلنے کے بعد مسلمان ان کا دامن پکڑیں گے اور ان کو مطمئن کرنا ان کے لئے سخت مشکل ہوگا۔ کچھ دیر یہ حالت طاری رہی اس کے بعد ایک انوکھا واقعہ ہوا۔ مہاتما گاندھی جو اسٹیج پر دوسری طرف موجود تھے ۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھے اور چلتے ہوئے مولانا محمد علی کے پاس پہنچے۔ انھوں نے مولانا محمد علی کے گلے میں اپنی باہیں ڈال دیں اور کہا: میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی ۔ یہ سن کر لوگ ہنس پڑے اور جو بات بے حد سنگین نظر آتی تھی وہ ایک لمحہ میں ختم ہوگئی اور اپنے معمول کے مطابق جلسہ شروع ہو گیا۔

کشمیر کی متشددانہ تحریک ۱۹۷۹ء کے آخر میں شروع ہوئی۔ چند سال بعد میری ملاقات کچھ پاکستانی دانشوروں سے ہوئی۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ کیوں کشمیر میں خونی تحریک چلا رہے ہیں، جب کہ آپ یقینی طور پر جانتے ہوں گے کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ کشمیر میں جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا ایک فیصلہ تھا، اور تاریخ کے فیصلہ کو اس قسم کے گن کلچر کے ذریعہ بدلنا ممکن نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم بھی اس حقیقت کو جانتے نہیں مگر ہم بنگلہ دیش کو بھلا نہیں سکتے ۔ ہمیں انڈیا سے ۱۹۷۱ء کا انتقام لینا ہے۔

میں نے کہا کہ آپ لوگ مسلم دانش در سمجھے جاتے ہیں مگر آپ کے اس جواب کا دانشوری سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ایک جھوٹی دانشوری ہے۔ سچی دانشوری کیا ہے۔ اس کی ایک مثال میں آپ کو بتاتا ہوں۔

آپ جانتے ہیں کہ امریکہ نے ۱۹۴۵ میں جاپان کے اوپر پہلی بار ایٹم بم گرایا۔ جاپان کا سب سے بڑا صنعتی شہر ہیرو شیما بالکل تباہ ہو گیا ۔ یہ جاپانیوں کے لئے ایک ناقابل برداشت صدمہ تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues

Printed page