Al-Risala · September 1999 · page 27

I love Gandhi but I love India more than Gandhi

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۷

وہاں کے لوگوں میں انتقام کی آگ بھڑک اٹھی۔ وہ ہیر اکری (خود کش بمباری) کی حد تک جاکر امریکہ سے انتقام لینے کے لئے تیار ہوگئے۔ اس وقت کچھ جاپانی دانشور اٹھے انھوں نے تقریر و تحریر کے ذریعہ اپنی قوم کی انتقامی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا کہ 1935ء میں اگر امریکہ نے ہمارے ہیرو شیما کو تباہ کیا ہے تو ہم بھی اس سے پہلے 1931ء میں امریکہ کے پرل ہاربر کو تباہ کر چکے تھے اس لئے معاملہ برابر ہو گیا۔ آؤ اب ماضی کو بھلا کر ملک کا نیا مستقبل تعمیر کرنے کی کوشش کریں۔ یہی وہ مثبت رہنمائی تھی جس کا یہ شاندار نتیجہ نکلا کہ دوسری عالمی جنگ میں تباہ ہونے والا جاپان صرف چالیس سال کے اندر ایک عالمی اقتصادی طاقت بن گیا۔

یہ واقعہ بتا کر میں نے پاکستانی دانشوروں سے کہا کہ اگر آپ لوگوں کے اندر حقیقی دانشوری ہوتی تو جاپانی دانشوروں کی طرح آپ بھی اپنی قوم سے یہ کہتے کہ ۔ ۔۔۔۔ انڈیا نے اگر 1971ء میں ہمارے ملک کو توڑا تو ہم بھی اس سے پہلے لے 1971ء میں ان کے ملک کو توڑ چکے تھے۔ اس طرح معاملہ برابر ہو گیا۔ آؤ اب ماضی کی باتوں کو بھلا دیں اور مثبت ذہن کے تحت ملک کے مستقبل کی تعمیر کریں۔

پاکستان کے دانشور اگر منفی سوچ سے بلند ہوتے تو وہ وہی کرتے جو جاپانی دانشوروں نے کیا۔ وہ اپنی قوم کو انتقام کی دلدل سے نکالتے اور لوگوں کے اندر مثبت اور تعمیری ذہن پیدا کرتے۔ اگر ایسا ہوتا تو آج پاکستان بلاشبہ ایشیا کا ایک انتہائی ترقی یافتہ ملک ہو تا، نہ کہ ایک تباہ شدہ ملک جیسا کہ آج وہ دکھائی دیتا ہے۔

بر صغیر ہند میں بہت پہلے سے ہندو مسلم مسئلہ موجود تھا۔ 1947ء سے پہلے مختلف نزاعات کی صورت میں اس کی مثالیں سامنے آتی رہتی تھیں۔ ہمارے رہنما برابر اس مسئلہ پر غور کرتے تھے۔ آخر کار اس معاملہ میں دو نظریئے زیادہ ابھرے۔ ایک، مہاتما گاندھی کا نظریہ۔ دوسرا، مسٹر محمد علی جناح کا نظریہ۔ مہاتما گاندھی کا حل فکری نوعیت کا تھا اور مسٹر محمد علی کا حل عملی نوعیت کا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues

Printed page