Al-Risala · September 1999 · page 28

I love Gandhi but I love India more than Gandhi

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۸

مہاتما گاندھی کا کہنا تھا کہ یہ نزاعات زیادہ تر مذہبی نوعیت کے ہیں۔ مذہبی اختلافات بڑھ کر جھگڑے کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ اس کا حل ان کی سمجھ میں یہ آیا کہ لوگوں کو یقین دلایا جائے کہ مذاہب میں کوئی اختلاف نہیں۔ اسلام بھی ایک سچا مذہب ہے اور اسی طرح ہندو ازم بھی ایک سچا مذہب ہے۔ اپنے اس نظریہ کو انھوں نے ایک جملے میں اس طرح بیان کیا کہ۔ رام رحیم ایک ہے۔

یہ کوئی نیا نظریہ نہیں۔ چار سو سال پہلے شہنشاہ اکبر نے سیاسی طاقت کے ذریعہ اس کو رائج کرنا چاہا۔ ڈاکٹر بھگوان داس نے مذاہب کے بارے میں اپنے انسائیکلو پیڈیاٹی علم کے ذریعہ اس کو ثابت کرنے کی کوشش کی۔ مہاتما گاندھی نے اپنی قائدانہ مقبولیت کے ذریعہ اس کو عام کرنا چاہا۔ و نو با بھاوے جیسی روحانی شخصیت نے اس کے لئے اپنی عمر صرف کردی۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ جہاں تک اصل مقصد کا تعلق ہے وہ ایک فیصد بھی حاصل نہیں ہوا۔

”تمام مذاہب سچے ہیں“ کا نظریہ خود مذہب کی نفی ہے۔ مذہب کا مقصد انسان کو یقین کی نعمت دینا ہے۔ یقین اپنی ذات میں تو حد چاہتا ہے نہ کہ تعدد۔ یقین کسی ایک ہی چیز کو حق ماننے سے پیدا ہو سکتا ہے۔ ہر چیز کو یکساں طور پر حق ماننا کبھی آدمی کے اندر یقین کی کیفیت پیدا نہیں کر سکتا۔

اس معاملہ کی ایک مثال خود مہاتما گاندھی کی زندگی میں موجود ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے عقیدے کو ”رام رحیم ایک ہے“ کے الفاظ میں بیان کرتے تھے۔ مگر ۳۰ جنوری ۱۹۴۸ کو جب انھیں گولی ماری گئی تو موت سے پہلے جو آخری لفظ ان کی زبان سے نکلا وہ ”ہے رام“ ہے رحیم نہیں تھا۔ بلکہ صرف ”ہے رام“ تھا۔ کئی سچائی کی بات آپ ڈپلومیسی کے طور پر کہہ سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ کو سچائی پر یقین ہے تو وہ لازماً صرف ایک سچائی ہو گی نہ کہ کئی سچائیاں۔ ”تمام مذاہب ایک ہیں“ کا نظریہ ایک غیر حقیقی نظریہ ہے۔ اس لئے وہ سرے سے قابل عمل ہی نہیں۔ اس قسم کے لوگ ظاہری نوعیت کی کچھ مشترک باتوں کو لے کر یہ کہنے لگتے ہیں کہ تمام مذاہب ایک ہیں۔ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ ان کے درمیان انتہائی اساسی اختلافات پائے

‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues

Printed page