I love Gandhi but I love India more than Gandhi
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۹
جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اسلام اور ہندوازم کو لیجئے رام اور رحیم یا نوح اور منو جیسے ناموں کی لفظی مشابہت سے یکسانیت ثابت کرنا کوئی علمی استدلال نہیں۔ علمی استدلال کا طریقہ یہ ہے کہ دونوں کی اساسی تعلیمات کا موازنہ کیا جائے ۔ مذکورہ استدلال ایسا ہی ہے جیسے کہا جائے کہ ہندوستان اور کیوبا دونوں ایک ہیں کیونکہ یہاں بھی درخت ہیں اور وہاں بھی درخت، یہاں بھی سمندری ساحل ہے اور وہاں بھی سمندری ساحل۔
میں پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میرے دل میں ہر انسان کے لئے یکساں احترام ہے، خواہ وہ ہندو ہو یا مسلمان ۔ مگر میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ تمام مذاہب ایک ہیں ، یعنی ایک مذہب کی کتاب میں جو تعلیم ہے وہی تعلیم دوسرے مذہب کی کتاب میں بھی ہے۔ اس قسم کا نظریہ یقینی طور پر ایک غیر علمی اور غیر واقعی نظریہ ہے۔
مثال کے طور پر ہندوازم میں خدا کی بابت وحدت وجود (monism) کا تصور ہے اور اسلام میں اس کے برعکس توحید (monotheism) کا تصور۔ توحید کے مطابق ، خدا مخلوقات سے الگ ہے۔ وہ ایک مستقل ہستی کی حیثیت رکھتا ہے، جب کہ وحدت وجود میں خالق اور مخلوق کی علیحدگی کا کوئی تصور نہیں۔ اس کے مطابق، ہر چیز ایک ہی غیر مشخص حقیقت کا مختلف اور متنوع اظہار ہے۔ چنانچہ آپ کو ایسے ہندو ملیں گے جو اپنا یہ عقیدہ بیان کرتے ہوئے نعوذ باللہ یہ کہیں گے کہ: سود بری از نوڈ فرینس بٹوین جی او ڈی اینڈ ڈی او جی۔
اسی طرح اسلام میں پیغمبر خدا کا تصور ہے اور ہندوازم میں تجسیم خدا کا تصور۔ اسلام میں موت کے بعد جنت اور جہنم کا تصور ہے اور ہندوازم میں آواگون کا تصور وغیرہ۔ مزید یہ کہ ”تمام مذاہب ایک ہیں“ کا نظریہ اہل مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کے مقصد کے لئے کسی بھی درجہ میں کار آمد نہیں۔ اس کا ایک تجرباتی ثبوت یہ ہے کہ کسی ایک مذہب کے ماننے والوں کے درمیان عملاً آج بھی یہ اعتقادی یکسانیت موجود ہے، اس کے باوجود ان کے درمیان برابر داخلی لڑائیاں جاری رہتی ہیں۔
مہا بھارت کی لڑائی میں کورواور پانڈو دونوں ہندو دھرم کو مانتے تھے۔ اس کے باوجود ان
‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues