Al-Risala · September 1999 · page 30

I love Gandhi but I love India more than Gandhi

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۰

کے درمیان خونیں لڑائی ہوئی۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے دونوں فریق زیادہ تر عیسائی تھے اس کے باوجود ان کے درمیان تاریخ کی سب سے زیادہ ہولناک جنگ ہوئی۔ افغانستان اور دوسرے مسلم ملکوں میں آج جو داخلی لڑائیاں جاری ہیں اس کے دونوں فریق اسلام کو اپنا مذہب بتاتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ دشمنوں کی طرح ایک دوسرے کے خلاف لڑرہے ہیں۔

اصل یہ ہے کہ اس مسئلۂ کا حل مذہبی یکسانیت نہیں بلکہ مذہبی روواداری ہے۔ اہل مذاہب کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کا راز باہمی اعتراف (mutual recognition) میں نہیں ہے بلکہ باہمی احترام (mutual respect) میں ہے۔ اس مسئلۂ کا حل یہ ہے کہ لوگوں میں ٹالرنس کی اسپرٹ پیدا کی جائے، نہ کہ بے فائدہ طور پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جائے کہ تمام مذاہب ایک ہیں۔

اس معاملہ میں مہاتما گاندھی کا نظریہ اگر بے فائدہ تھا تو مسٹر محمد علی جناح کا پیش کردہ حل صرف الثا نتیجہ پیدا کرنے والا تھا۔ ۱۹۴۷ سے پہلے یہ مسئلہ دو بے اقتدار کمیونٹی کے درمیان تھا، کیونکہ اس وقت سیاسی اقتدار انگریزوں کو حاصل تھا جو اپنے سیاسی مصالح کے تحت ہندوؤں اور مسلمانوں میں موازنہ قائم کرنے کا رول ادا کر رہے تھے۔ مگر مسٹر محمد علی جناح کے فارمولے کے تحت جب ہندوانڈیا (بھارت) اور مسلم انڈیا (پاکستان) بنا تو دو کمیونٹی کا مسئلہ مزید اضافہ کے ساتھ دو اسٹیٹ کا مسئلہ بن گیا۔ پہلے جس اختلاف کا اظہار جلسوں اور مظاہروں کی سطح پر ہوتا تھا وہ اب مسلح مقابلہ کی سطح پر ہونے لگا۔ یہاں تک کہ بڑھتے بڑھتے وہ ’’ہندو بم‘‘ اور ’’اسلامی بم‘‘ تک جا پہنچا۔

حقیقت یہ ہے کہ جغرافیائی تقسیم کسی بھی درجہ میں ہندو مسلم مسئلہ کا حل نہیں۔ اس کا حل پہلے بھی یہ تھا کہ دونوں فرقے اختلافات کو نظر انداز کرتے ہوئے باہم مل جل کر رہیں اور آج بھی اس کا حل یقینی طور پر یہی ہے۔ مزید یہ کہ اس تقسیم نے اس مساوات کو توڑ دیا جو انگریزوں نے قائم کر رکھا تھا۔ موجودہ پاکستان کے مقابلہ میں ہندوستان پانچ گنا زیادہ بڑے ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسی حالت میں محاذ آرائی کی پالیسی کسی بھی درجہ میں پاکستان کے لئے مفید نہیں۔ پاکستان

‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues

Printed page