I love Gandhi but I love India more than Gandhi
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۱
کے لئے زندگی کی واحد ضمانت یہ ہے کہ وہ نزاعی طریقہ کو مکمل طور پر چھوڑ دے۔ وہ یکطرفہ ایڈ جسٹمنٹ کا طریقہ اختیار کرے۔ مگر بد قسمتی سے پاکستان میں کوئی بھی بے ریش یا باریش قائد نہیں جو اہل پاکستان کو اس قسم کا حقیقت پسندانہ مشورہ دے رہا ہو۔
ملک کی تقسیم (۱۹۴۷) کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سیاسی جھگڑے ختم ہو جانا چاہئے تھا۔ مگر اس کے بعد بھی وہ مزید شدت کے ساتھ جاری رہا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی اصل وجہ کشمیر کا مسئلہ ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ خود کشمیر کا مسئلہ کس نے پیدا کیا۔ تاریخی ریکارڈ بتاتا ہے کہ اس مسئلہ کو پیدا کرنے کی سب سے بڑی ذمہ داری پاکستان کے غیر دانشمند لیڈروں پر ہے۔ اس معاملہ کا غیر جانب دارانہ جائزہ جس نتیجہ تک پہنچتا ہے وہ یہی ہے۔ آزادی کے بعد جب یہ مسئلہ پیدا ہوا، اس وقت مسٹر مہر چند مہا جن ریاست جموں و کشمیر کے وزیر اعظم تھے۔ وہ اس سے پہلے ہندوستان کے چیف جسٹس رہ چکے تھے۔ انھوں نے اپنی خود نوشت سوانح عمری لوکنگ بیک (Looking back) میں تفصیل کے ساتھ کشمیر کا قصہ بیان کیا ہے۔ یہ کتاب ۱۹۷۳ میں ایشیا پبلشنگ ہاؤس (بمبئی) سے شائع ہوئی ہے۔ مسٹر مہر چند مہاجن لکھتے ہیں کہ ۱۵ اگست ۱۹۴۷ کو مہاراجہ کشمیر نے انھیں ریاست کا وزیر اعظم مقرر کیا۔ کشمیر کے لئے روانگی سے پہلے وہ نئی دہلی میں مرکزی حکومت کے ذمہ داروں سے ملے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس وقت ہندوستانی حکمران ہندوستان سے کشمیر کے الحاق کے بارے میں زیادہ سنجیدہ نہیں تھے۔ (صفحہ ۲۷۹) جسٹس مہر چند کے اس بیان کا جو مطلب ہے اس کو سمجھنا کوئی مشکل کام نہیں۔
اس سلسلہ میں دوسری شہادت جو پیش کرنا چاہتا ہوں وہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم چودھری محمد علی کی ہے۔ ان کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے ظہور پاکستان (Emergence of Pakistan) اس کتاب میں انھوں نے کشمیر کے مسئلہ پر تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ۱۹۴۸ میں جب انڈیا نے ریاست جونا گڑھ میں اپنی فوجیں داخل کر دیں اور اس کو انڈیا کے
‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues