Al-Risala · September 1999 · page 32

I love Gandhi but I love India more than Gandhi

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۲

ساتھ ملایا تو پاکستانی حکومت کی درخواست پر نئی دہلی میں ایک خصوصی میٹنگ ہوئی۔ اس میں ہندوستان کی طرف سے پنڈت جواہر لال نہرو اور سردار پٹیل شریک تھے۔ پاکستان کی طرف سے نواب زادہ لیاقت علی خاں اور مصنف کتاب چودھری محمد علی نے شرکت کی۔

چودھری محمد علی بتاتے ہیں کہ میٹنگ شروع ہوئی تو لیاقت علی خاں (وزیراعظم پاکستان) نے اس پر تقریر شروع کی کہ انڈیا نے ریاست جونا گڑھ میں اپنی فوجیں کیوں داخل کیں جب کہ اس نے پاکستان سے الحاق کر لیا تھا۔ ان کی لمبی تقریر پر سردار پٹیل صبر نہ کر سکے اور درمیان میں بول اٹھے۔ چودھری محمد علی کے بیان کے مطابق، سردار پٹیل اگرچہ متعصب تھے مگر وہ حقیقت پسند (realistic) تھے۔ چنانچہ اس موقع پر انھوں نے کہا کہ جونا گڑھ کی بات چھوڑو، کشمیر اور حیدر آباد کی بات کرو۔ اور ہم با آسانی دونوں کے بارے میں ایک اگریمنٹ تک پہنچ سکتے ہیں۔ Why do you compare Junagarh with Kshmir ? Talk of Hydera- bad and Kashmir, and we could reach an agreement (p 300)

مگر چودھری محمد علی کے بیان کے مطابق وزیراعظم پاکستان نے سردار پٹیل کی اس پیشکش پر کوئی دھیان نہیں دیا اور گفتگو بے نتیجہ طور پر ختم ہو گئی۔

اس تاریخی شہادت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ابتداء اتنا سادہ تھا کہ وہ بات چیت کی میز پر حل ہو رہا تھا۔ اس کے باوجود پاکستانی لیڈر کیوں اس کو حل کرنے میں ناکام رہے۔ اس کی وجہ پاکستان کے قائدین کی سیاسی حرص تھی۔ وہ عجیب و غریب طور پر اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ وہ حیدر آباد اور کشمیر دونوں کو پاکستان میں شامل کر لیں گے۔ حیدر آباد کو اس منطق سے کہ اس کا صدر ریاست مسلمان ہے۔ اور کشمیر کو اس منطق سے کہ اس کی آبادی میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ یہ ڈبل منطق یقینی طور پر نا قابل عمل تھی۔ چنانچہ اس معاملہ میں پاکستانی قائدین کا انجام وہی ہوا جس کو ایک جاپانی مثل میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ۔ ۔۔ جو آدمی بیک وقت دو خرگوشوں کے پیچھے دوڑے وہ ایک کو بھی پکڑ نہیں سکتا۔

میرے والد فرید الدین خاں مرحوم اپنے علاقے کے بڑے زمیں دار تھے۔ ان کا انتقال

‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues

Printed page